جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں پانی کا بدترین بحران ، متنازعہ کا لاباغ ڈیم سے ایک قدم آگے بڑھ کر ملک بھر میں جنگی بنیادوں پر چھوٹے ڈیم بنانے کا سلسلہ شروع کیا جائے ورنہ کیا ہوگا؟ انتہائی سنگین انتباہ جاری

datetime 24  جون‬‮  2018 |

کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ پانی کا بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔پانی کی کمی نے زراعت و صنعت کے علاوہ ملکی آبادی کوبھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے اور یہ ملک کا سب سے اہم معاملہ بن گیا ہے ۔ملک کو بتدریج ریگستان بنایا جا رہا ہے مگر پالیسی ساز موجودہ نازک صورتحال سے لا تعلق نظر آتے ہیں۔ پانی کے بغیر ملکی ترقی کیلئے اٹھائے گئے تمام اقدامات لاحاصل ہیں جبکہ فوڈ سیکورٹی کے مسئلے پر فسادات ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی شہروں کی جانب نقل مکانی کے رجحان موسمیاتی تبدیلیوں واٹر مینیجمنٹ میں ناکامی اور سب سے بڑھ کر دشمن ملک بھارت کی سازشوں نے پانی کی دستیابی کی صورتحال کوانتہائی تشویشناک بنا دیا ہے جس سے ملک قحط کی جانب بڑھ رہا ہے۔ایک وقت میں پاکستان پانی کی دولت سے مالا مال تھا ۔1990سے ملک میں پانی کی دستیابی کم ہوتی گئی جو 2005سے شدت اختیار کر گئی ہے مگر پالیسی ساز اس معاملہ پر سنجیدہ نہیں ہوئے۔انھیں ملک میں پانی کی کمی سے مضمرات کے بارے میں مسلسل بنایا جاتا رہا مگر کسی کے کان پر جون تک نہیں رینگی جس سے ملک میں فی کس پانی کی دستیابی کم ہوتی چلی گئی اوراب عوام، کاشتکاروں اور صنعتی سعبہ کیلئے پانی کا حصول مشکل ہو گیا ہے۔ تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد عالمی بینک نے پاکستان میں ہر دہائی میں ایسا ایک ڈیم بنانا ضروری قرار دیا تھا مگر اس مشورے کو مسلسل نظر انداز کیا گیا جس کا نتیجہ اب قوم بھگت رہی ہے۔ اب پاکستان پانی کی کمی کے شکار ممالک میں تیسرے نمبر پر آ گیا ہے جہاں فی کس پانی کی دستیابی ایک ہزار مکعب میٹر سے بھی کم ہو گئی ہے جو 2009 میں 1500 مکعب میٹر تھی۔ انھوں نے کہاکہ اگر اب بھی صورتحال کی سنگینی کو محسوس نہ کیا گیا تو ہماری عوام، زراعت اور صنعت پر منفی اثرات مرتب ہونگے اور ملک میں سنگین سیاسی بحران جنم لے گا جسے حل کرنا ناممکن ہو گا۔انھوں نے مطالبہ کیا کہ متنازعہ کا لاباغ ڈیم سے ایک قدم آگے بڑھ کر ملک بھر میں جنگی بنیادوں پر چھوٹے ڈیم بنانے کا سلسلہ شروع کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…