جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

خان صاحب !جن پر انگلیاں اٹھاتے رہے آج انہی کو ٹکٹ دیدیا ،یہ ہمیں قبول نہیں بنی گالہ کے باہر احتجاج کرنے والے کارکنوں نے انتہائی سخت اقدام اٹھا لیا

datetime 22  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹکٹوں کی تقسیم پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں پارٹی کارکنان کا احتجاج پانچویں دن میں داخل، نظریاتی ورکرز کو نظر انداز کرنے پر شدید احتجاج، سکندر بوسن کو ٹکٹ کی الاٹمنٹ ناقابل قبول قرار دیدی۔ تفصیلات کے مطابق ں کی تقسیم پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ

میں پارٹی کارکنان کا احتجاج پانچویں دن میں داخل ہو چکا ہے اور ملتان سے آئے پارٹی کارکنوں نے عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے کے ساتھ شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔ کارکنان کا کہنا تھا کہ عمران خان نےپارٹی کارکنان سے زیادہ الیکٹیبلز کو اہمیت دی ہےاور پارٹی کے نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔ احتجاج کرنے والے ان کارکنان کا تعلق این اے 154 ملتان اور این اے 12 بٹگرام سے ہے۔سکندر بوسن کو پارٹی ٹکٹ الاٹ کرنا پارٹی کے کارکنان کو منظور نہیں ہےاور ان کےجب تک مطالبات پورے نہیں ہوتےوہ یہیں بیٹھیں گے۔خیال رہے دو روز قبل عمران خان نے احتجاجی کارکنان سے خطاب کیا تھا اور کہا تھا کہ یں اپنے بورڈ کے ساتھ بیٹھ کے انصاف اور دیانتداری سے جو فیصلہ کروں گا چاہے جتنی بھی پبلک آ جائے وہ میں تبدیل نہیں کروں گا۔۔عمران خان کا کہنا تھا کہ آپ پچاس لوگ ہیں اگر دس ہزار لوگ بھی آ جائیں تو میں اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کروں گا۔آپ لوگ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں۔ اور اگر آج میں نے آپ لوگوں کی بات مان لی تو کل پچاس لوگ اور اکھٹے ہو جائیں گے،اس لیے میں وہی فیصلہ کروں گا جو پارلیمانی بوڑد میں فیصلہ ہو گا۔اس موقع پر پارٹی کارکنان کا کہنا تھا کہ خان صاحب آپ نے ہمیں سکھایا ہے کہ ان حکمرانوں کو بے نقاب کر نا ہے اور اب آپ انہی کو ٹکٹیں دے رہے ہیں، یہ بات ہمیں قبول نہیں اور ہم آپ کے سکھائے سبق پر ہی یہاں بیٹھیں ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…