جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

خان صاحب !جن پر انگلیاں اٹھاتے رہے آج انہی کو ٹکٹ دیدیا ،یہ ہمیں قبول نہیں بنی گالہ کے باہر احتجاج کرنے والے کارکنوں نے انتہائی سخت اقدام اٹھا لیا

datetime 22  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹکٹوں کی تقسیم پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں پارٹی کارکنان کا احتجاج پانچویں دن میں داخل، نظریاتی ورکرز کو نظر انداز کرنے پر شدید احتجاج، سکندر بوسن کو ٹکٹ کی الاٹمنٹ ناقابل قبول قرار دیدی۔ تفصیلات کے مطابق ں کی تقسیم پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ

میں پارٹی کارکنان کا احتجاج پانچویں دن میں داخل ہو چکا ہے اور ملتان سے آئے پارٹی کارکنوں نے عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے کے ساتھ شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔ کارکنان کا کہنا تھا کہ عمران خان نےپارٹی کارکنان سے زیادہ الیکٹیبلز کو اہمیت دی ہےاور پارٹی کے نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔ احتجاج کرنے والے ان کارکنان کا تعلق این اے 154 ملتان اور این اے 12 بٹگرام سے ہے۔سکندر بوسن کو پارٹی ٹکٹ الاٹ کرنا پارٹی کے کارکنان کو منظور نہیں ہےاور ان کےجب تک مطالبات پورے نہیں ہوتےوہ یہیں بیٹھیں گے۔خیال رہے دو روز قبل عمران خان نے احتجاجی کارکنان سے خطاب کیا تھا اور کہا تھا کہ یں اپنے بورڈ کے ساتھ بیٹھ کے انصاف اور دیانتداری سے جو فیصلہ کروں گا چاہے جتنی بھی پبلک آ جائے وہ میں تبدیل نہیں کروں گا۔۔عمران خان کا کہنا تھا کہ آپ پچاس لوگ ہیں اگر دس ہزار لوگ بھی آ جائیں تو میں اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کروں گا۔آپ لوگ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں۔ اور اگر آج میں نے آپ لوگوں کی بات مان لی تو کل پچاس لوگ اور اکھٹے ہو جائیں گے،اس لیے میں وہی فیصلہ کروں گا جو پارلیمانی بوڑد میں فیصلہ ہو گا۔اس موقع پر پارٹی کارکنان کا کہنا تھا کہ خان صاحب آپ نے ہمیں سکھایا ہے کہ ان حکمرانوں کو بے نقاب کر نا ہے اور اب آپ انہی کو ٹکٹیں دے رہے ہیں، یہ بات ہمیں قبول نہیں اور ہم آپ کے سکھائے سبق پر ہی یہاں بیٹھیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…