جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

خان صاحب !جن پر انگلیاں اٹھاتے رہے آج انہی کو ٹکٹ دیدیا ،یہ ہمیں قبول نہیں بنی گالہ کے باہر احتجاج کرنے والے کارکنوں نے انتہائی سخت اقدام اٹھا لیا

datetime 22  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹکٹوں کی تقسیم پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ میں پارٹی کارکنان کا احتجاج پانچویں دن میں داخل، نظریاتی ورکرز کو نظر انداز کرنے پر شدید احتجاج، سکندر بوسن کو ٹکٹ کی الاٹمنٹ ناقابل قبول قرار دیدی۔ تفصیلات کے مطابق ں کی تقسیم پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ

میں پارٹی کارکنان کا احتجاج پانچویں دن میں داخل ہو چکا ہے اور ملتان سے آئے پارٹی کارکنوں نے عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر دھرنے کے ساتھ شدید احتجاج شروع کر دیا ہے۔ کارکنان کا کہنا تھا کہ عمران خان نےپارٹی کارکنان سے زیادہ الیکٹیبلز کو اہمیت دی ہےاور پارٹی کے نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کر دیا ہے۔ احتجاج کرنے والے ان کارکنان کا تعلق این اے 154 ملتان اور این اے 12 بٹگرام سے ہے۔سکندر بوسن کو پارٹی ٹکٹ الاٹ کرنا پارٹی کے کارکنان کو منظور نہیں ہےاور ان کےجب تک مطالبات پورے نہیں ہوتےوہ یہیں بیٹھیں گے۔خیال رہے دو روز قبل عمران خان نے احتجاجی کارکنان سے خطاب کیا تھا اور کہا تھا کہ یں اپنے بورڈ کے ساتھ بیٹھ کے انصاف اور دیانتداری سے جو فیصلہ کروں گا چاہے جتنی بھی پبلک آ جائے وہ میں تبدیل نہیں کروں گا۔۔عمران خان کا کہنا تھا کہ آپ پچاس لوگ ہیں اگر دس ہزار لوگ بھی آ جائیں تو میں اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کروں گا۔آپ لوگ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں۔ اور اگر آج میں نے آپ لوگوں کی بات مان لی تو کل پچاس لوگ اور اکھٹے ہو جائیں گے،اس لیے میں وہی فیصلہ کروں گا جو پارلیمانی بوڑد میں فیصلہ ہو گا۔اس موقع پر پارٹی کارکنان کا کہنا تھا کہ خان صاحب آپ نے ہمیں سکھایا ہے کہ ان حکمرانوں کو بے نقاب کر نا ہے اور اب آپ انہی کو ٹکٹیں دے رہے ہیں، یہ بات ہمیں قبول نہیں اور ہم آپ کے سکھائے سبق پر ہی یہاں بیٹھیں ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…