ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

بھارت سے پاکستان آنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کے بعد افغانستان سے پاکستان آنے والا بھی پانی بند،اربوں ڈالرز سے کتنے ڈیم افغانستان میں بنائے جارہے ہیں؟انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 19  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی)اسلام آباد چیمبر آف سمال ٹریڈرز کے سرپرست شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ افغانستان کو پاکستان کا پانی چوری کرنے سے روکا جائے اور اسکی آبی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے ۔افغانستان بھی بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی میں شامل ہو کر پاکستان کو صحرا بنانے کی گھناونی سازش میں شامل ہو گیا ہے جس کا تدارک کیا جائے۔

بھارت پاکستان کا پانی چوری کرنے کیلئے سینکڑوں ڈیم بنا رہا ہے جس سے دونوں ممالک کے مابین 18.5 ملین ایکڑ فٹ پانی کی تقسیم کا فارمولا متوازن نہیں رہا ہے جس سے پاکستان کی معیشت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔شاہد رشید بٹ نے ایک بیان میں کہا کہ عالمی بینک بھی غیر جانبدار نہیں رہا بلکہ ایک عالمی طاقت کے اشارے پر بھارت کا ہمنوا بنا ہوا ہے افغان حکومت پاکستان کے دشمن ممالک کی مدد سے سات ارب ڈالر کی لاگت سے مختلف مقامات پر ایک درجن ڈیم بنا رہی ہے جو پانچ ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد کے حامل ہونگے جس سے صوبہ خیبر پختوان خواہ اور فاٹا میں رہنے والی پختون آبادی بری طرح متاثر ہو گی۔ ان متنازعہ منصوبوں سے دریائے کابل کے پانی میں پاکستان کا حصہ سترہ فیصد کم ہو جائے گا جس سے عوام،صنعت اورزراعت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے ۔پشاور کے بیس لاکھ عوام سمیت ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان،شمالی وزیرستان اور کئی علاقوں کے عوام پینے اور زراعت کیلئے دریائے کابل کا پانی استعمال کرتے ہیں جبکہ ورسک ڈیم کی بجلی بھی اسی دریا کے پانی سے بنتی ہے جبکہ یہی دریا بیس سے اٹھائیس ملین ایکڑ فٹ پانی دریائے سندھ کو فراہم کرتا ہے۔اس پانی میں کمی سے دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا اس لئے افغانستان سے جلد از جلد پانی کی تقسیم کا منصفانہ معاہدہ کرنے پر غور کیا جائے جو دونوں ممالک کے مستقبل کے لئے بہت ضروری ہے جبکہ افغانستان بھارت کا آلہ کار نہ بنے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…