منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا میں 30ہزار میگاواٹ سے زائد پن بجلی پیداکرنے کی گنجائش ،کتنے ہزار میگا واٹ بجلی کے منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے؟سیکرٹری توانائی کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 12  جون‬‮  2018 |

پشاور(آئی این پی )سیکرٹری توانائی وبرقیات محمد سلیم خان نے کہا خیبرپختونخواتوانائی کے ذخائرسے مالامال صوبہ ہے ،جہاں پر30ہزار میگاواٹ سے زائد پن بجلی پیداکرنے کی گنجائش موجود ہے جس سے سستی ترین بجلی پیداکرکے ملک کوموجودہ توانائی کے بحران سے نکالاجاسکتاہے ،ان وسائل کے فروغ سے نہ صرف خیبرپختونخواکی معیشت کو استحکام دیاجاسکتاہے بلکہ بے روزگاری پر کافی حد تک قابوپایاجاسکتاہے،

خیبرپختونخوامیں فاٹاکے انضمام کے بعد مستقبل کے چیلنجزسے نمٹنے کے لئے ہمیں توانائی ایکشن پلان کا ازسرنوجائزہ لیناہوگا،محکمہ توانائی اوراسکے تمام ذیلی اداروں میں شاہ خرچیوں پرپابندی ہوگی اورحکومتی خزانے سے غیرضروری اخراجات ناقابل برداشت ہونگے ۔ ان خیالات کا اظہارسیکرٹری توانائی وبرقیات محمد سلیم خان نے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن ،پیڈوہاؤس کے دورے کے موقع پر توانائی کے جاری منصوبوں کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیف ایگزیکٹو آفیسرپیڈوانجینئرذین اللہ شاہ نے صوبے میں جاری توانائی منصوبوں پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں جامع بریفنگ دی۔ اجلاس میں بتایا گیاکہ پیڈوکے زیرنگرانی پن بجلی کی پیداوار کے متعدد چھوٹے،درمیانے اوربڑے منصوبوں پرحکومتی اورنجی سطح پر کام جاری ہے جن کی تکمیل سے ہزاروں میگاواٹ بجلی پیداہوگی،اسکے علاوہ شمسی توانائی کے متعدد منصوبے بھی زیرتکمیل ہیں،انہوں نے بتایاکہ حکومت کلین انرجی پالیسی کے تحت صوبے میں دستیاب وسائل سے سستی ترین بجلی کی پیداواری منصوبوں کوترجیح دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع سوات میں84میگاواٹ مٹلتان ہائیڈروپاورپراجیکٹ،چترال میں 69میگاواٹ لاوی ہائیڈروپاورپراجیکٹ،ضلع دیرمیں40میگاواٹ کوٹوہائیڈروپاورپراجیکٹ پر حکومتی سطح پر کام تیزی سے جاری ہے

جبکہ پاکستان کی بین الاقوامی شہرت یافتہ کنسٹرکشن کمپنی فرنٹیئرورکس آرگنائزیشن(ایف ڈبلیواو) ضلع چترال میں 506میگاواٹ کے 3پن بجلی کے منصوبوں لاسپورموجی گرام ہائیڈروپاورپراجیکٹ230میگاواٹ، شوشگئی زھنڈولی ہائیڈروپاورپراجیکٹ144میگاواٹ اورشوگوسن ہائیڈروپاورپراجیکٹ132میگاواٹ پرکام کررہی ہے۔

سیکرٹری توانائی سلیم خان نے توانائی کے جاری منصوبوں پر اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ہائیڈل صوبے میں بجلی کی پیداوارکا سستاترین ذریعہ ہے۔انہوں نے محکمہ توانائی کے افسران پر زوردیاکہ وہ فاٹاانضمام کے بعد ہرضلع میں توانائی کے وسائل کوتلاش کرنے کے لئے ازسرنوجائزہ لیں اورحکومتی سطح پر پیسکو/واپڈاکی طرز پر اپنی ٹرانسمیشن اینڈڈسٹری بیوشن لائن کی تعمیرکے لئے ایک جامع منصوبہ بھی تیارکریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…