پیر‬‮ ، 26 جنوری‬‮ 2026 

خدا نے مجھے ملک کا محافظ بنایا، اسکے علاوہ کسی عہدے کی خواہش نہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر

datetime 16  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)برسلز میں سینئر صحافی سہیل وڑائچ سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے واضح کیا کہ ان کی تبدیلی سے متعلق گردش کرنے والی تمام افواہیں بے بنیاد ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی باتیں صرف حکومت اور اداروں کے مخالف عناصر پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ نے انہیں ملک کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی ہے اور اس کے علاوہ کسی عہدے یا منصب کی خواہش نہیں رکھتے۔

سہیل وڑائچ کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ ملکی سیاست میں مفاہمت اسی وقت ممکن ہے جب مخالفین اخلاص کے ساتھ معافی مانگیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو امریکا اور چین کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنے کا وسیع تجربہ ہے، اور ایک ملک سے تعلقات قائم کرنے کے لیے دوسرے ملک کو قربان نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن کے لیے کوششیں حقیقی ہیں، پاکستان نے سب سے پہلے ان کے لیے نوبل انعام کی سفارش کی تھی اور اب دنیا کے دیگر ممالک بھی اس کی تقلید کر رہے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ بھارت کو پاکستان کے خلاف پراکسی وار بند کرنی چاہیے اور افغان حکومت کو بھی طالبان کو پاکستان کی سرزمین کی طرف دھکیلنے کی روش ترک کرنی ہوگی۔ انہوں نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایک پاکستانی کے خون کا حساب لینا ان کی ذمہ داری ہے۔اس موقع پر فیلڈ مارشل نے وزیراعظم کی کاوشوں کو بھی سراہا اور کہا کہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ نے جنگی حالات میں جس خلوص اور عزم کے ساتھ دن رات کام کیا وہ قابل تعریف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا (سوم)


مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…