ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پوری قوم کی آواز ہے ،کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی ‘جسٹس (ر) جاوید اقبال

datetime 28  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد( این این آئی)قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے نیب ہیڈ کوارٹرز میں ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں نیب کے آپریشن ڈویژن اور پراسکیوشن ڈویثرن کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں چیئرمین نیب نے آپریشن ڈویژن اور پراسکیوشن ڈویثرن کو ہدایت کی کہ نیب آرڈیننس قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام شکایات کی جانچ پڑتال ، انکوائریاں اور

انوسٹی گیشن کو میرٹ ، شفافیت ، شواہد اور پہلے سے طے شدھ طریقہ کارکے مطابق 10ماہ کے مقرر کردہ وقت کے اندر مکمل کریں اور اس سلسلہ میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔جاوید اقبال نے نیب لاہور میں 161انکوائریاں، 47 انوسٹی گیشنز، نیب کراچی میں 173انکوائریاں، 119انوسٹی گیشنز، نیب خیبر پختونخواہ میں105انکوائریاں، 26انوسٹی گیشنز، نیب بلوچستان میں85انکوائریاں، 23 انوسٹی گیشنز، نیب راولپنڈی میں 102انکوائریاں،40انوسٹی گیشنز، نیب ملتان میں 18انکوائریاں، 13انوسٹی گیشنز اور نیب سکھر میں 95انکوائریاں اور 20انوسٹی گیشنز مقررہ وقت کے اندر قانون اور شواہد کی بنیاد پر مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔ انہوں نے مختلف معزز احتساب عدالتوں میں 1216 بدعنوانی کے ریفرنسزکی بھی موثر پیروی کی ہدایت کی تاکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جا سکے اور قوم کے اربوں روپے مبینہ طور پر بدعنوان عناصر سے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کروائے جا سکیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ پوری قوم کی آواز ہے ۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…