جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

عدالتی تاریخ کا انوکھا کیس۔۔بیٹا رات گئے چھت پرچڑھ کر کیا کام کرتاہے؟کم ازکم رمضان میں اسے جیل میں بند رکھیں، باپ بیٹے کےخلاف عدالت میں درخواست لے کر پہنچ گیا

datetime 27  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )عدالتی تاریخ کا انوکھا کیس ، باپ نے رات گئے چھت پر چڑھ کرموبائل پر لڑکیوں سے باتیں کرنیوالے بیٹے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکالیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ایک شہری نے عدالت میں درخواست دی ہے کہ اس کے بیٹے کو غیرسنجیدہ حرکتوں پر ماہِ رمضان میں جیل میں بند کر دیا جائے۔ لاہور کے شہری نے سول اینڈ سیشن عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ میرے منع کرنے کے باوجودمیرا بیٹا غیر سنجیدہ حرکتوں سے باز نہیں

آرہا اکثر رات گئے تک لڑکیوں کے ساتھ چھت پر جا کر موبائل فون پرباتیں کرتا رہتا ہےاور ماہ رمضان میں بھی اس قبیح حرکت کی جان نہیں چھوڑی اور میرے منع کرنے کے باوجود چھت پر رات گئے تک لڑکیوں سے باتیں کرتا ہے۔باپ نے درخواست پر عدالت سے استدعا کی کہ میرے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے کم از کم اسے ماہ رمضان میں جیل میں رکھا جائے تاکہ وہ اس غیر سنجیدہ حرکت سے باز رہے۔عدالت نےباپ کی اپنے بیٹے کے خلاف دائر درخواست پر متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او سے رابطہ کر لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…