اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

”ڈرائیور میرے پاس آیا اور بولا کہ ڈاکٹر عبدالقدیرخان نے ۔۔“ سابق آئی ایس آئی چیف اسددرانی کا بھارتی کتاب میں ایسا انکشاف کہ پاکستانی سوچ میں پڑجائینگےکہ کیا واقعی ڈاکٹر عبدالقدیر خان ایسے انسان ہیں

datetime 26  مئی‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )پاکستا ن کے سابق آئی ایس آئی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل(ر)اسد درانی کی اپنے بھارتی ہم منصب سابق را چیف اے ایس دلت کے ساتھ مشترکہ کتاب ’’دی سپائی کرونیکلز : را اینڈ آئی ایس آئی دی الوژن آف پیس‘‘ شائع کی جا چکی ہے۔ بھارت میں شائع ہونیوالی اس کتاب پر قومی سلامتی کے حوالے سے پاکستان میں تحفظات کا اظہار سامنے آیا ہے اور گزشتہ روز پاک فوج

نے اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے 28 مئی بروز پیر اسد درانی کو جی ایچ کیو طلب کر یا ہے۔ کتاب میں مصنف کے پوچھنے پراسد درانی نے اپنی زندگی کا اہم اور یادگار واقعہ سناتے ہوئے پاکستانی ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے حوالے سے بتایا کہ غلام اسحٰق خان کے دور میں جب وہ ڈی جی ایم آئی تھے تو وہ ایک تقریب میں شریک ہوئے توتقریب سے واپسی پر دروازے پر کھڑے دربان نے آواز لگائی کہ جنرل درانی صاحب کی گاڑی لے آئو۔ اس دوران وہ میرے قریب آگیا اور سرگوشی کے انداز میں بولا ” جنرل صاحب آپ ایک طرف کھڑے ہوجائیں ،میں نے آپ سے بات کرنی ہے “میں نے پوچھا ”کیا ہوا؟“تو بولا کہ” ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی اس طرح کی تقریبات میں آنے کی کیا تُک ہے ۔مطلب یہ کہ اس شخص کو خود سوچنا چاہئے کہ اسکو ایسی تقریبات میں نہیں جانا چاہئے ۔صاحب میں اپنی ڈیوٹی کرتا ہوں ،میں نے کبھی نہیں کہا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی گاڑی لے آئو۔میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ ڈرائیور فضلو خان گاڑی لے آؤ۔اس طرح کسی کو معلوم نہیں ہوپاتا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اس تقریب میں شامل تھے ۔میری کوشش ہوتی ہے کہ انہیں گمنام ہی رکھوں مگر وہ آتے ہیں اور ہر چیز میں نمایاں ہوتے ہیں ۔“جنرل اسد درانی نے بتایا کہ ڈاکٹر اے کیو خان کو ہر جگہ جانے سے بڑا اطمینان ہوتا تھا مگر بہت سے لوگوں کو انکی یہ حرکت پسند نہیں تھی

کہ وہ ہرجگہ پہنچ جایا کرتے تھے ،خود نمائی اورذاتی تشہیرانکی کمزوری رہی ۔اس حوالے سے جب میں صدر اسحاق خان سےبات کی اورصدر سے کہا کہ” سر ڈاکٹر عبدالقدیر خان لگاتار مختلف تقریبات میں جاتے اور بیانات بھی دیتے ہیں ،ان کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں ہے “صدر نے کہا کہ وہ سب جانتے ہیں مگر یہ شخص ایٹمی پروگرام کے لئے انتہائی ناگزیر ہے اس لئے اس کی کچھ چیزیں

برداشت کرنا پڑتی ہیں ۔جنرل درانی نے مزید بتایاکہ میں نے یہ بھی سنا تھا کہ جب کوئی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو اس بارے کہتا تو وہ کہتے کہ تمہیں اس سے کیا سروکار،جاؤ جاکر صدر سے بات کرو“میرا اندازہ ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو یہ یقین تھا کہ وہ جہاں بھی چلے جائیں،اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ایٹمی پروگرام کو کچھ نہیں ہوسکتا ،کوئی اس سے چھیڑ خانی نہیں کرسکتا نہ اسکو ڈی ریل کرسکتا ہے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…