جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

’’کہتے ہیں جس کووہ یہ ہے پاکستان؟‘‘ 300 روپے رشوت: کیس پر لاکھوں خرچ، لائن مین17 سال بعد بری، رشوت کے تین سو روپے مال خانے والے کھا گئے

datetime 26  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) 3 سوروپے مبینہ رشوت لینے والے لائن مین کو 17 سال بعد بری، 17 سال وقت ضائع کرنے اور لاکھوں روپے برباد کرنے کے باوجودرشوت لینے کا الزام ثابت نہ ہو پایا، مال خانہ سے مال مقدمہ 300روپے بھی غائب ۔نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سپیشل سنٹرل عدالت لاہورکے جج محمد رفیق نے 3 سوروپے مبینہ رشوت لینے والے لائن مین کو 17 سال بعد بری کر دیا۔

17 سال وقت ضائع کرنے اور لاکھوں روپے برباد کرنے کے باوجود استغاثہ 300 روپے رشوت کاالزام ثابت نہ کر پایا جبکہ مال خانے سے مال مقدمہ‘300 روپے ’بھی غائب ہو گئے۔عدالت نے ملزم محمد علی کو جرم ثابت نہ ہونے پر 17 سال بعد بری کر دیا۔ پراسیکیوٹر کاعدالت میں کہنا تھا کہ ملزم پی ٹی سی ایل میں لائن مین تھا، جس نے طارق محمود سے 300 روپے رشوت لی۔ ملزم پی ٹی سی ایل گلشن راوی میں تعینات تھا۔ جہاں مجسٹریٹ نے اسے رشوت کے پیسوں کے ساتھ ریڈ کر کے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔انکوائری میں بھی ملزم گنہگار ثابت ہوا جس پر 2001 میں ملزم محمد علی کیخلاف مقدمہ درج ہوا ۔تاہم فریقین کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزم کو بری کرتے ہوئے قرار دیا کہ استغاثہ ملزم کیخلاف اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا ، رشوت کے تین سو روپے مال خانے والے کھا گئے اور ملزم سالوں سے عدالتوں میں خوار ہو تا رہا جبکہ مدعی مقدمہ طارق محمود کو بھی بطور گواہ پیش نہیں کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…