جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

ہر ضلع میں ایککمپنی بنائی جاتی ہے جس کا سربراہ ا یم این اے ہوتا ہے،فنڈز ملتے ہیں اور نوکریاں دی جاتی ہیں،قومی اسمبلی میں حیرت انگیز انکشافات

datetime 26  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا ہے کہ تلاش و پیداوار پٹرولیم پالیسی کے تحت ہر ضلع میں ایک کمپنی بنائی جاتی ہے جس کا سربراہ ا یم این اے ہوتا ہے اور ڈی سی او اس کمپنی کا سیکرٹری ہوتا ہے اور طے شدہ کوٹے کے مطابق فنڈز ملتے ہیں اور نوکریاں دی جاتی ہیں اس حوالے سے تمام تفصیلات موجود ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران توجہ مبذول کرائے گئے تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جہاں سے تیل نکالا جاتا ہے وہاں پر ایک ضلعی سطح پر کمیٹی بنائی جاتی ہے جس کا سربراہ ایم این اے اور سیکرٹری ڈی سی او ہوتا ہے جو کوٹے کے مطابق ملازمین اور فنڈز کی تقسیم کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ملکمیں بے روزگاری ہے جن کو روزگار نہیں ملتا وہ شکایت کرتے ہیں لیکن کمپنی پابند ہوتی ہے کہ جس علاقے سے تیل نکالا جائے گا وہاں کے لوگوں کو کمپنی میں ملازمتیں دی جائیں گی رکن اسمبلی نعیمہ کشور نے کہا جہاں سے تیل نکالا جاتا ہے وہاں کی مقامی آبادی کو درجہ چہارم اور ڈرائیور کی سیٹ پر نوکریاں دی جاتی ہیں ایک بلاک میں تین سو لوگ ہوتے ہیں اس پر شیخ آفتاب نے کہا کہ جن لوگوں کو نوکری نہیں ملے گی وہ شکایت کریں گے حکومت کی طرف سے سماجی بہبود کی ترقیاتی اسکیموں کے لئے جو فنڈز دیئے جاتے ہیں اس کی تفصیلات موجود ہیں کہ کہاں کہاں فنڈز دیئے گئے ہیں ۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور شیخ آفتاب احمد نے کہا ہے کہ تلاش و پیداوار پٹرولیم پالیسی کے تحت ہر ضلع میں ایک کمپنی بنائی جاتی ہے جس کا سربراہ ا یم این اے ہوتا ہے اور ڈی سی او اس کمپنی کا سیکرٹری ہوتا ہے اور طے شدہ کوٹے کے مطابق فنڈز ملتے ہیں اور نوکریاں دی جاتی ہیں اس حوالے سے تمام تفصیلات موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…