بدھ‬‮ ، 18 مارچ‬‮ 2026 

نواز شریف نے جیسے اداروں کے ساتھ محاذآرائی شروع کی ہے اس کی ملکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی،رحمان ملک

datetime 25  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی)ُ پیپلز پارٹی کے سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ نواز شریف نے جیسے اداروں کے ساتھ محاذآرائی شروع کی ہے اس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی،اگر حکومت اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی نہ کرتی تو حالات اس موڑ تک نہ پہنچتے ، پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں بہت صبر و تحمل اور درگزر سے کام لیالیکناداروں تنقید کا نشانہ نہیں بنایا،نگران وزیر اعظم کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے بھی حل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا، فاٹا کے انضمام سے علاقہ غیر کے لوگ اب اپنے بن گئے ہیں۔

اور ان پر بھی پاکستان کا قانون لاگو ہوگا، فاٹا اصلاحات کے مسئلے پر تمام بڑی سیاسی جماعتیں ایک ہو گئیں اگر باقی مسائل پر بھی یکجا ہوجائیں تو پاکستان کو قسمت سنور جائے۔وہ جمعہ کا پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہیہ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ سیاستدان پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کی باتیں تو کرتے ہیں لیکن جب اس پارلیمنٹ کے ذریعے مسائل حل کرنے کا وقت آتا ہے تو ہم سے اپنے مسائل حل نہیں ہوتے اور پھر کوئی دوسرا پارلیمنٹ کے کاموں میں مداخلت کرتا ہے۔ نگران وزیر اعظم کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعے بھی حل ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ نگران وزیر اعظم کے معالے پر کیند اب ڈی میں ہے، سیاستدانوں کی ناکامی کے باعث اب گول کوئی اور کر دے گا ۔ رضا ربانی کے دور میں پارلیمنٹ کی کارکردگی بہترین رہی اور سینیٹ نے قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا ۔ پارلیمنٹ کا بنیادی کام ہی قانون سازی کرنا ہے، اگر ہم اپنا کام کریں گے تو عوام کا سیاستدانوں پر اعتماد بحال ہوگا۔ فاٹا اصلاحات پیپلز پارٹی کا شروع دن سے ہی مطالبہ تھی اور ہم نے فاٹا کے عوام کو ان کے حقوق دلوانے کیلئے بڑی جدوجہد کی ہے۔ فاٹا کے انضمام سے علاقہ غیر کے لوگ اب اپنے بن گئے ہیں اور ان پر بھی پاکستان کا قانون لاگو ہوگا۔ پیپلز پارٹی نے اپنے دور حکومت میں بہت صبر و تحمل اور درگزر سے کام لیا، ہماری حکومت میں ہی ہمارے وزیر اعظم کو گھر بھیج دیا گیا لیکن ہم تواداروں تنقید کا نشانہ نہیں بنایا اور سب کے ساتھ مل کر چلے۔

نواز شریف نے جیسے اداروں کے ساتھ محاذآرائی شروع کی ہے اس کی پاکستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اگر حکومت اسٹیبلشمنٹ سے پنگا لیتی اور لڑائی نہ کرتی تو حالات اس موڑ تک پہنچتے ہی نہ۔اگر اب بھی حکومت اداروں سے محاذ آرائی کی بجائے افہام و تفہیم سے چلے تو حالاٹ بہت بہتر ہو سکتے ہیں۔ اس حکومت نے جتنے بیرونی قرضے لیے ہیں پاکستان کی70سالہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ فاٹا اصلاحات کے مسئلے پر تمام بڑی سیاسی جماعتیں ایک ہو گئیں اور اتفاق رائے سے بل کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور کروایا، اگر ایسے ہی تمام سیاسی جماعتیں باقی مسائل پر بھی یکجا ہوجائیں تو پاکستان کو قسمت سنور جائے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہبی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…