جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

میرے دادا میاں شریف خاندان کے کن افراد کو جیب خرچ دیتے تھے اور کیا کیپٹن صفدر کو بھی پیسے ملتے تھے ؟ مریم نواز نے عدالت میں گھر کے اندر کی کہانی بیان کردی

datetime 25  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)دادا میاں شریف مرحوم خاندان کے افراد کے اخراجات اٹھاتے اور انہیں جیب خرچ دیتے تھے، سپریم کورٹ نے مجھے اور میرے خاوند کو شامل تفتیش ہونے کا حکم نہیں دیا تھا لیکن سپریم کورٹ کی ہدایت نہ ہونے کے باوجود ایکسپرٹ کی رائے لی گئی جس کا مقصد مجھے اور میرے شوہر کو شامل تفتیش کرکے ملوث کرنا تھا، ایون فیلڈ ریفرنس میں

مریم نواز کا دوسرے روز کا عدالت میں بیان۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے آج احتساب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس میں بقایا سوالات کا جواب دیتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ لندن فلیٹس حسین نواز کی ملکیت ہیں ، نیلسن اور نیسکول کمپنی کے بینیفشل آنر بھی وہی ہیں، ان دونوں کمپنیوں کا ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعے مجھے ٹرسٹی بنایا گیا ، میں نے جے آئی ٹی میں دونوں ڈیکلریشن دیے جو کہ نوٹری پبلک سے تصدیق شدہ تھے۔سپریم کورٹ نے مجھے اور میرے خاوند کو شامل تفتیش ہونے کا حکم نہیں دیا تھا لیکن سپریم کورٹ کی ہدایت نہ ہونے کے باوجود ایکسپرٹ کی رائے لی گئی جس کا مقصد مجھے اور میرے شوہر کو شامل تفتیش کرکے ملوث کرنا تھا۔مریم نواز نے کہا یہ حقیقت ہے کہ ان کے دادا میاں شریف مرحوم خاندان کی کفالت کرتے تھے ، وہی خاندان کے افراد کے اخراجات اٹھاتے اور سب کو جیب خرچ بھی دیتے تھے۔نیلسن اور نیسکول کمپنی کے بینیفشل آنر بھی وہی ہیں، ان دونوں کمپنیوں کا ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعے مجھے ٹرسٹی بنایا گیا ، میں نے جے آئی ٹی میں دونوں ڈیکلریشن دیے جو کہ نوٹری پبلک سے تصدیق شدہ تھے۔سپریم کورٹ نے مجھے اور میرے خاوند کو شامل تفتیش ہونے کا حکم نہیں دیا تھا لیکن سپریم کورٹ کی ہدایت نہ ہونے کے باوجود ایکسپرٹ کی رائے لی گئی جس کا مقصد مجھے اور میرے شوہر کو شامل تفتیش کرکے ملوث کرنا تھا۔خیال رہے کہ مریم نواز کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر نے جے آئی ٹی کو ریکارڈ کرائے اپنے بیان میں کہا تھا کہ جدہ میں ان کا کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا بلکہ میاں شریف مرحوم انہیں 1500 ریال ماہانہ وظیفہ دیتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…