جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

راشد لنگڑیال کو بیرون ملک جانے سے روکا جائے،سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شہیدہ تنزیلہ امجد کی بیٹی بسمہ امجد نے چیف جسٹس کے نام خط لکھ دیا

datetime 25  مئی‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شہیدہ تنزیلہ امجد کی بیٹی بسمہ امجد نے چیف جسٹس کے نام خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ آپ نے 8 اپریل 2018 ء کے دن ملاقات کے دوران کہا تھا کہ آپ جب بھی میری ضرورت محسوس کریں آپ میری بیٹی ہیں میرے سے رابطہ کریں، بسمہ امجد نے اپنے خط میں چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری سب سے بڑی ضرورت میری والدہ کا انصاف ہے،

ملزمان کو کٹہرے میں لانے کیلئے ہم چار سال سے قانونی جدوجہد کررہے ہیں، 24 مئی 2018ء کے دن ایک قومی اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ایک اہم کردار اس وقت کے کمشنر لاہور راشد لنگڑیال کو اکنامک وزیر بنا کر واشنگٹن ڈی سی تعینات کیا جارہا ہے۔ خبر میں واضح طور پر لکھا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی سماعت میں تیزی آنے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے راشد لنگڑیال کو بیرون ملک بھجوانے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے ضروری اقدامات کر لیے گئے ہیں، بسمہ امجد نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے اس اہم کردار کو بیرون ملک جانے سے روکا جائے، اس سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر توقیر شاہ، ڈی آئی جی رانا عبدالجبار، ایس پی ناصر شیرازی کو بیرون ملک بھجوایا جا چکا ہے، راشد لنگڑیال سانحہ ماڈل ٹاؤن کا نامزد ملزم ہے ۔سانحہ سے قبل اہم میٹنگز میں شریک رہا۔اس کے ساتھ ساتھ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کی طرف سے جو استغاثہ دائر کیا گیا ہے اس میں راشد لنگڑیال بطور ملزم شامل ہیں اور نواز شریف ،شہباز شریف سمیت جن12 ملزمان کی طلبی کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن زیر سماعت ہے اس میں راشد لنگڑیال بھی شامل ہیں، اس دوران راشدلنگڑیال کا بطور اکنامک منسٹر بیرون ملک جانے سے انصاف کا عمل متاثر ہو گا،آپ سے درخواست ہے کہ راشدلنگڑیال کی ممکنہ تقرری کا بھی نوٹس لیا جائے ،

مزید کو بھاگنے سے روکا جائے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مکمل انصاف تک راشد لنگڑیال کو بیرون ملک نہ جانے دیا جائے۔ اگر یہ بیرون ملک چلے گئے تو پھر انہیں واپس لانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بسمہ امجد نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں کردار ادا کرنے والے تمام افسران کو اہم عہدوں اور ترقیوں سے نوازا گیا، کسی ایک اہلکار کو معمولی سی سزا بھی نہیں دی گئی یہاں تک کہ ان کیخلاف کوئی محکمانہ رسمی کارروائی بھی عمل میں نہیں آنے دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…