جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

کراچی، حیدرآباد ، میر پورخاص،نواب شاہ،سکھر، لاڑکانہ اور جیکب آباد ،سندھ کو 7ریاستوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ سامنے آگیا،حکومت سے تحریری جواب طلب

datetime 23  مئی‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی) سندھ ہائی کورٹ نے سندھ میں 7 ریاستیں بنانے سے متعلق سندھ حکومت کو تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کردی، بینچ کے روبروسندھ کو 7 ریاستیں بنانے سے متعلق سماعت ہوئی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شبیر شاہ نے موقف اختیار کیا کہ یہ درخواست ناقابل سماعت ہے۔زائد صوبے بنانے سے متعلق خاص قانون موجود ہے اگر پارلیمنٹ بھی 2/3 اکثریت سے قانون پاس کر لے پھر بھی مذکورہ صوبے کی رضامندی کے بغیر زائد صوبے نہیں بنا سکتی،عدالت سے استدعا ہے کہ

درخواست کو غیر موثر قرار دے کر مسترد کردی جائے، درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ ملک تباہی کی جانب جارہا ہے اگر آزاد ریاستیں قائم نہ کی گئیں تو ملک کو مزید نقصان ہوگا۔عدالت نے درخواست گزار سے مکالمے میں کہا کہ آپ ہمیں بتائیں کس قانون کے تحت آزاد ریاستوں کے قیام کا حکم دے سکتے ہیں،درخواست عظمت ولی نامی شہری نے دائر کی ہے،وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی ذمے داریوں میں ناکام ہوچکی ، موجودہ نظام کے تحت سندھ کی حالت نہیں بدلی جا سکتی، ایسے حالات میں تو مارشل لابھی لگایا جا سکتا ہے،عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ آئینی حدود کی بات کریں،آئین میں مارشل لا کی کوئی گنجائش نہیں،سرکاری وکیل نے کہا کہ ایسے دلائل پر عدالت درخواست گزار پر جرمانہ عائد کرے۔درخواست گزار نے کہا کہ سندھ میں بد ترین تباہی ہوچکی ہے،خود سندھی سب سے زیادہ متاثر ہورہا ہے، عدالت نے سندھ حکومت کو تحریری جواب داخل کرنے کی ہدایت کردی،عدالت نے سماعت 5جون تک ملتوی کردی،دائر درخواست میں عظمت ولی نے موقف اختیار کیا تھا سندھ کو 7 آزاد ریاستوں میں تقسیم کیا جائے،کراچی، حیدرآباد ، میر پورخاص،نواب شاہ،سکھر، لاڑکانہ اور جیکب آباد کو بھی آزاد ریاست بنایا جائے، تمام ریاستوں کا ہیڈ کراچی کو بنایا جائے، یورپ ، اسلامی ممالک میں کوئی بھی صوبہ 50 لاکھ آبادی سے زائد نہیں، آزاد ریاستوں میں تقسیم سے پاکستان کی حالت بدلی جا سکتی ہے، آزاد ریاستوں کا کنٹرول کمشنر کو دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…