جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

جہانگیر ترین و دیگر نا اہلوں کی تحریک انصاف سے چھٹی شاہ محمود قریشی کے بعد حامد خان بھی کھل کر سامنے آگئے

datetime 23  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے رہنمائوں میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، شاہ محمود قریشی کے بعد حامد خان بھی نااہل رہنمائوں کے خلاف کھل کر میدان میں آگئے، پارٹی اجلاسوں، فیصلوں اور ٹکٹوں کی تقسیم سے دور رکھنے کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی رہنما حامد خان ایڈوکیٹ نے بھی سپریم کورٹ سے نااہل کسی بھی شخص کو پارٹی سے دور رکھنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ انہوں نے شاہ محمود قریشی کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ سے نااہل کسی بھی شخص کو

پارٹی معاملات نہیں چلانا چاہیں۔حامد خان کا کہنا تھا کہ ایسا شخص ٹکٹوں کے معاملات میں شرکت کر سکتا ہے نہ ہی پارٹی کی سیاسی طاقت استعمال کر سکتا ہے۔ نااہل شخص کی مداخلت رہی تو ہمیں عدالتوں میں مختلف مقدما ت کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ ذوالفقار احمد بھٹہ بنام ریاست 2018ء میں کہہ چکی ہے کہ نااہل شخص کے کسی اقدام یا مشورے کی قانونی حیثیت نہیں ہو گی۔ نااہل شخص قانونی مشکلات پیدا کرے گا۔ فوری طور پر سپریم کورٹ سے تاحیات نااہل ہونیوالے لوگوں سے چھٹکارا حاصل کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…