جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

ملک بھر کی پولیس اب یہ کام کسی صورت نہیں کر سکے گی ،سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 23  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے ملک بھر کی پولیس کو ایک مقدمے کے اندراج کے بعد دوسری ایف آئی آر درج کرنے سے روک دیا اورقرار دیا ہے کہ کسی واقعہ پر نیا موقف آنے پر نئی ایف آئی آر کا جواز نہیں، ٹھوس شواہد یا مواد آنے تک ملزم کو گرفتار نہ کیا جائے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے قرار دیا کہ ایک ایف آئی آر کے بعد دوسری ایف آئی آر درج کرنے کا کوئی جواز نہیں ۔

کسی واقعہ پر نیا موقف آنے پر نئی ایف آئی آر درج نہ کی جائے۔ عدالت نے ایف آئی آردرج ہونے کے فوری بعد نامزد ملزم کی گرفتاری سے بھی پولیس کو روک دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ ٹھوس شواہد یا مواد آنے تک ملزم کو گرفتار نہ کیا جائے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ تحقیقات کے دوران تفتیشی افسر نیا پہلو سامنے آنے پر متعلقہ شخص کا بیان ریکارڈ کرے اور واقعہ کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کر کے سچ کو سامنے لائے۔ اندراج مقدمہ کا مقصد سچ سامنے لا کر اصل ملزمان کو پکڑنا ہے۔ وقوعہ کی تحقیقات مکمل پونے پر چالان ٹرائل کورٹ میں داخل کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے دوہری ایف آئی آر کے اندراج سے متعلق عدالتی فیصلے کی نقول تمام آئی جیز پولس کو بھجوائی جائیں، تمام آئی جیز ملک بھر کے تھانوں کے افسران کو فیصلے سے آگاہ کریں اور فیصلے پر من و عن عمل در آمد کو یقینی بنائیں۔عام شہری نے دوسری ایف آئی اندراج کا حکم دینے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا اور موقف اپنایا تھا کہ بقول پہلی ایف آئی آر ان کی مدعیت میں درج نہیں ہوئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…