بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

سمندر پار پاکستانیوں کوبیرون ملک سے استعمال شدہ گاڑیاں لانے کی اجازت دیئے جانے کے بعد ایسا کام شروع ہوگیا کہ کسی نے سوچا تک نہ ہوگا، حیرت انگیز صورتحال

datetime 21  مئی‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں کمرشل امپورٹررز کے لیے بیرون ملک سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدکیلیے کوئی لائحہ عمل طے نہیں کیا جا سکا ہے۔ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے سمندر پار پاکستانیوں کوبیرون ملک سے استعمال شدہ گاڑیاں لانے کی اجازت دی گئی ہے اور اس ضمن میں ان کے لیے کئی اسکیمیں موجود ہیں تاہم ذرائع کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کو دی گئی سہولت کا کمرشل درآمدکنندگا ن کی جانب سے غلط استعمال ہو رہاہے

جس کو روکنے اور اس سلسلے میں نیا لائحہ عمل مرتب کرنے کے حوالے سے پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں کمرشل امپورٹرز کی جانب سے بیرون ملک سے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے اسٹیٹ بینک وزارت تجارت ایف بی آر اور دیگر شراکت داروں کے درمیان مذاکرات ہوئے اور مستقبل میں گاڑیوں کی کمرشل درآمد کے حوالے سے مختلف آرا دی گئی ہیں۔گاڑیوں کی درآمد کے حوالے سے اسٹیٹ بینک حکام کاکہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے سمندر پار پاکستانیوں کے لیے مختلف اسکیموں کے تحت گاڑیاں لانے کی اجازت دی گئی تھی تاہم اس سہولت کو سمندر پارپاکستانی بہت کم استمعال کررہے ہیں اور اس سہولت کا غلط استعمال ہورہاہے جس کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔ذرائع کے مطابق حکام نے بتایاکہ بعض درآمدکنندگان سمندر پار پاکستانیوں سے سازباز کرکے اور سمندر پارپاکستانیوں سے انکا پاسپورٹ خرید کر کاروباری مقاصد کیلیے گاڑیاں منگواتے ہیں جو کہ غیر قانونی اقدام ہے حکام کا موقف تھاکہ اوورسیز پاکستانی خود گاڑیوں کی اسکیموں سے بہت کم مستفید ہوتے ہیں اور ان کے پاسپورٹ پر کمرشل درآمدکنندگان اپنا کاروبار کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کی جانب سے درآمد کنندگان کیلیے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے طریقہ کار کی شدید مخالفت کی جارہی ہے اورای ڈی بی حکام کاکہناہے کہ بیرون ملک سے استعمال شدہ گاڑیوں کیلیے طریقہ کار مرتب کرنے اور گاڑیوں کی باقاعدہ اجازت دے دینے سے ملک میں آٹو انڈسٹری کو نقصان پہنچے گا۔ ای ڈی بی حکام کا موقف تھاکہ اگر کمرشل درآمدکنندگان کو استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دے دی گئی تو اس سے ملک میں آٹو سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری رک جائیگی اور یہ صنعت متاثر ہوگی، جب تک اس سلسلے میں کوئی نیا لائحہ عمل طے نہیں پاتا اس وقت تک موجودہ طریقہ کار ہی جاری رکھاجائے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…