جمعرات‬‮ ، 19 مارچ‬‮ 2026 

بدترین مخالف بھی ساتھ دیتے ہیں مگر کیسے؟ آئی ایس آئی کے سابق چیف اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے سابق چیف کی مشترکہ کتاب کی تفصیلات منظر عام پر، ’’را‘‘ نے کیسے پاکستانی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے بیٹے کی مدد کی؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 21  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک موقر قومی اخبار میں آئی ایس آئی کے سابق چیف اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے سابق چیف کی مشترکہ کتاب کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا کہ معاملہ ہندی فلموں کے اسکرپٹ کی طرح لگتا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی کے بیٹے عثمان درانی کو مئی 2015ء میں ممبئی میں گرفتار کیا گیا تھا، اسے کامیابی کے ساتھ بھارتی ایجنسی را نے بازیاب کرایا اور واپس پاکستان بھیجا۔

اس بات کا انکشاف حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’’دی اسپائی کرانیکلز‘‘ میں کیا گیا ہے، یہ کتاب جنرل اسد درانی اور بھارتی را کے سابق چیف اے ایس دولت نے مشترکہ طور پر تحریر کی ہے۔ کتاب میں لکھا گیا کہ مئی 2015ء میں جنرل درانی کے بیٹے عثمان درانی جرمن کمپنی کے کام کے سلسلے میں بھارتی شہر کوچی پہنچے۔ عثمان جس شہر سے یہاں داخل ہوئے تھے انہیں وہیں سے واپس جانا تھا لیکن ان کی کمپنی نے ممبئی سے ان کی فلائٹ کی بکنگ کی۔ انہیں ممبئی میں حکام نے روکا اور اس کے بعد 24 گھنٹوں تک انہیں ویزا کی خلاف ورزی کے باوجود بھارت سے باہر نکالنے کے راستے تلاش کیے جاتے رہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق درانی نے اس کتاب میں بتایا کہ ہم افراتفری کا شکار تھے کیونکہ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ اب کیا ہوگا مگر اس کے باوجود ممبئی اسپیشل برانچ کے لوگوں نے عثمان سے یہ نہیں کہا کہ تمہارے پاس بمبئے کا ویزا نہیں ہے، تم یہاں کیا کر رہے ہو، پکڑو، اندر کرو اسے۔ ایسا ہو سکتا تھا لیکن نہیں ہوا۔ اس تمام عرصہ کے دوران میری بیوی اور میں ایک اور پریشانی میں مبتلا تھے کہ کیا ہوگا اگر کسی نے یہ بات ظاہر کر دی کہ سابق آئی ایس آئی چیف کا بیٹا ممبئی میں گھوم رہا ہے، حالانکہ ممبئی والوں کے ذہنوں میں 26/11 کے واقعے کی یاد تازہ تھی۔ رپورٹ کے مطابق جب درانی کو معلوم ہوا کہ عثمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے تو انہوں نے دولت سے رابطہ کیا، دولت نے را چیف راجیندر کھنّہ سمیت کئی لوگوں سے رابطہ کیا لیکن معاملات ٹھیک ہوگئے اور عثمان کو ایک دن بعد واپس جرمنی جانے دیا گیا۔

دولت کا کہنا تھا کہ اہم موقع وہ تھا جب میں نے کھنّہ سے رابطہ کرکے ان کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے درانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو ہمارا فرض تھا کیونکہ آخر تو وہ ہمارے ساتھی ہی ہیں۔ واضح رہے کہ اتوار کو دی نیوز سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے جنرل (ر) درانی نے اس واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ کتاب جلد پاکستان میں دستیاب ہوگی۔ کتاب میں آزاد کشمیر میں بھارت کی نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک، کلبھوشن یادیو کی گرفتاری، نواز شریف، حافظ محمد سعید، مظفر وانی اور دیگر موضوعات پر بات کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہبی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…