بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

بس بہت ہوگیا! پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اپنی جگہ پر لیکن ہم آپ کے لیے یہ کام ہرگز نہیں کر سکتے! پاکستان کا اچانک بڑا فیصلہ، چین کو انکار کر دیا گیا

datetime 21  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک چین اقتصادی راہداری ایسا منصوبہ ہے جو پاکستان کی معیشت میں انقلاب برپا کر سکتا ہے، یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان بلکہ پاکستانی عوام کے لیے بھی بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، ایک موقر انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان نے گوادر کی بندرگارہ اورفری زون پر چین کو ٹیکس کی مزید چھوٹ دینے کا ارادہ ملتوی کر دیا ہے

جس پر چینی حکومت نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ حکومت پاکستان 23 سال کے لیے ٹیکس کی چھوٹ کے اپنے وعدے پر پوری طرح عملدرآمد نہیں کر رہی ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق منسٹری آف میری ٹائم افیئرز کی طرف سے اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی آف کیبنٹ کے سامنے گوادر کی بندرگاہ اور گوادر فری زون کے لیے ٹیکس چھوٹ کی سمری پیش کی گئی تھی مگر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس کی منظوری کو ملتوی کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کی طرف سے گوادر پورٹ رعایتی معاہدے میں مجوزہ ترامیم کے حوالے سے موجود مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ میری ٹائم منسٹری نے اکنامک کوآرڈینیشن کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ گوادر پورٹ کے چینی آپریٹرز کو ٹیکس میں چھوٹ کے حوالے سے قوانین و ضوابط میں مبہم ہونے سے مشکلات کا سامنا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی طرف سے چین کو تین سال قبل گوادر کی بندرگاہ کے ضمن میں 23 سال کی ٹیکس چھوٹ کی منظوری دی گئی تھی تاکہ اس بندرگاہ کو خطے میں تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جا سکے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق چین کی طرف سے یہ مطالبہ بھی سامنے آیا ہے کہ ٹیکس کی چھوٹ کا نفاذ 2007ء کی بجائے 2013ء سے نافذ العمل تصور کیا جائے، اس طرح چینی کمپنیوں کو 2036ء تک ٹیکس چھوٹ حاصل ہو سکے گی، یہ دورانیہ 2030ء میں ختم ہونے والے چین پاکستان لانگ ٹرم پلان برائے پاک چین اقتصادی راہداری سے بھی زیادہ مدت کا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…