بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

قصور میں عدلیہ مخالف نعرے بازی کیس ،اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے خود کو عدالتی رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں ہمیں معاف کر دیا جائے‘ملزمان کی اپیل،عدالت نے دھماکہ خیز احکامات جاری کردیئے

datetime 18  مئی‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے قصور میں ریلی کے دوران عدلیہ مخالف نعرے بازی کیس میں ملزمان کی جانب سے زبانی معافی مانگنے پر ریمارکس دیئے کہ توہین عدالت میں زبانی معافی مانگنے کی بجائے جو کچھ کہنا ہے تحریری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو درخواست گزاروں کے

وکیل میاں ظفر اقبال کلانوری نے عدالت کوبتایا کہ قصور کے کشمیر چوک پر سابق وزیراعظم کی نااہلی کے موقع پر ملزمان نے عدلیہ مخالف ریلی نکالی۔ملزمان عدلیہ مخالف نعرے بازی کر کے توہین عدالت کے مرتکب ہوئے۔ڈسٹرکٹ بار قصور کی جانب سے ایڈووکیٹ احسن بھون نے کہا کہ ریلی میں موجود قائدین اور کارکنان نے عدلیہ کے خلاف تضحیک آمیز نعرے بازی کی ،ملزمان کسی رعائت کے مستحق نہیں۔ دوران سماعت ملزمان نے کہا کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے خود کو عدالتی رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں ہمیں معاف کر دیا جائے۔ملزمان نے بتایا کہ ان کی درخواست ضمانتیں عدالت کی جانب سے وصول ہی نہیں کی جا رہیں۔ جس پر فاضل عدالت نے ریمارکس دیئے کہ توہین عدالت میں زبانی معافی مانگنے کی بجائے جو کچھ کہنا ہے تحریری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے ممبر انسپکشن ٹیم کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی مقدمے کا توہین عدالت سے متعلق جاری کاروائی سے کوئی تعلق نہیں، انسداد دہشت گردی عدالت کے جج کو آگاہ کیا جائے کہ ملزمان کی درخواست ضمانتوں پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ عدالت نے تمام گواہان کی فہرست طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 22مئی تک ملتوی کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ نے قصور میں ریلی کے دوران عدلیہ مخالف نعرے بازی کیس میں ملزمان کی جانب سے زبانی معافی مانگنے پر ریمارکس دیئے کہ توہین عدالت میں زبانی معافی مانگنے کی بجائے جو کچھ کہنا ہے تحریری طور پر عدالت میں پیش کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…