جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

انڈونیشیا میں پاکستان ٗ افغانستان اور انڈونیشیا کے علماء کی کانفرنس میں طالبان کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کی کوشش ،پاکستانی شرکاء نے انتہائی قدم اُٹھالیا

datetime 18  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) انڈونیشیا میں پاکستان ٗ افغانستان اور انڈونیشیا کے علماء کی حالیہ کانفرنس میں پاکستانی شرکاء نے طالبان کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کی کوشش ناکام بنا دی ۔کانفرنس میں پندرہ رکنی پاکستانی علماء اور دینی سکالرز کے وفد میں شامل مدرسہ تفہیم القرآن مردان کے مہتمم ڈاکٹر عطاء الرحمن نے’’ این این آئی ‘‘کو بتایا کہ پاکستانی علماء نے مشترکہ طورپر اعلامیہ سے بھی طالبان کا نام ہٹا دیا ۔

انہوں نے کہاکہ افغان علماء کی خواہش تھی کہ کانفرنس میں افغانستان میں جاری جنگ سے متعلق ایک فتویٰ جاری کیا جائیگا لیکن پاکستانی علماء کا اصرار تھا کہ انہوں نے اپنے ملک کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے فتویٰ جاری کیا ہے اور یہ افغان علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے فتویٰ جاری کرے تاہم پاکستانی علماء نے افغانستان سمیت پوری دنیا میں امن وامان کی حمایت کا اعادہ کیا ۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی وفد نے اس تجویز کی بھی مخالفت کی جس میں کہا گیا تھا کہ افغانستان میں ماضی میں جتنے اعلامیئے منظور ہوئے ہیں انڈونیشیا میں ہونے والی کانفرنس اس کی تائید کرے لیکن پاکستانی علماء کا موقف تھا کہ انہیں افغانستان میں ماضی میں جاری کئے گئے اعلانات سے متعلق وہ آگاہ نہیں ہیں لہذا اس کی حمایت نہیں کر سکتے ۔مدرسہ حقانیہ کے نائب مہتمم مولانا انوار الحق نے کانفرنس سے واپسی پر کہاکہ کسی بھی پاکستانی شرکاء نے طالبان سے جنگ بندی کا مطالبہ نہیں کیا اور اس سلسلے میں افغان میڈیا کی خبریں غلط ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کانفرنس کے دور ان افغانستان میں غیر ملکی افواج کے بارے میں مثال پیش کی تھی کہ جب تک کنویں سے مردار نہ نکالا جائے تو پانی صاف نہیں ہوتا اور یہی مثال افغانستان میں غیر ملکی افواج کی بھی ہے جب تک وہ وہاں سے نہ چلے جائیں مسئلہ حل نہیں ہوتا ۔انہوں نے کہاکہ شمالی اتحاد کے علماء کی خواہش تھی کہ اعلامیہ میں طالبان کا

نام استعمال کیا جائے لیکن ہم نے منتظمین کو طالبان کے خلاف بیان سے روک لیا ۔حقانیہ مدرسے کے ایک اور استاد مولانا محمد ادریس کاکہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کو ایک جیسے مسائل کا سامنا ہے اور علماء اس مسائل کے حل میں اہم کر دار ادا کر سکتے ہیں ۔وفد کے ایک اور رکن مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے کہاکہ امن کا مطالبہ صرف افغانستان تک محدود نہیں ہوناچاہیے بلکہ مقبوضہ کشمیر ٗ فلسطین ٗ عراق ٗ یمن ٗ شام اور دیگر اسلامی ممالک میں بھی امن ہونا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…