منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

غرور ،تکبر اور گھمنڈ شریف فیملی کو لے ڈوبا،ذوالفقار کھوسہ حکمران خاندان پر چڑھ دوڑے

datetime 13  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار کھوسہ نے کہا ہے کہ غرور تکبر اور گھمنڈ شریف خاندان کو لے ڈوبا ہے،جنوبی محاذ صوبہ کی تحریک گزشتہ کئی دہائیوں سے چل رہی ہے تاہم پیپلزپارٹی اور ن لیگ سرائیکی خطے کے ساتھ مخلص نہیں ہیں،مستقبل میں کسی ایک پارٹی کی نہیں بلکہ مخلوط حکومت قائم ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں سے محبت

اور ایمانداری کے ساتھ شریف خاندان کی خدمت کی مگر ان کی طرف سے جھوٹ،بغض،عداوت اور کینہ پروری کے سوا مجھے کچھ نہیں ملا ہے،شریف خاندان نے پرویز مشرف کے ساتھ ہونے والا معاہدہ نہ صرف ہم سے چھپایا بلکہ ہماری پیٹھ پیچھے ہمارے سیاسی مخالفوں کے ساتھ دوستیاں نبھاتے رہے۔انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کو اپنے دوستوں رشتہ داروں اور ملک سے زیادہ اپنی دولت عزیز ہے اور آج اسی دولت نے اسے دنیا بھر میں رسوا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب میں دو چیزیں بہت زیادہ ہیں ایک وہ خوشامد پسند ہیں دوسرا خاندانی اور شریف لوگوں کے مقابلے میں نئے لوگوں کو پروان چڑھا کر ان کے ذریعے سیاستدانوں ،بیوروکریٹس،آرمی اور عدلیہ کی توہین وتذلیل کرواتے ہیں۔سردار ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں صوبہ محاذ بنانے کا فیصلہ اچانک نہیں ہیے اس سے قبل2010ء میں وفاقی کابینہ میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا مسئلہ اٹھایا تھا کہ اس خطے کو صوبے کا درجہ دیا جائے اور اس پر متفقہ قرارداد بھی منظور کروائی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں سرائیکی خطے کے ساتھ مخلص نہیں ہیں اگر یہ چاہتے تو اپنی حکومتوں کے دوران یہ مسئلہ حل کرسکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ شریف برادران نے اس اہم مسئلے کو کبھی بھی سنجیدہ نہیں لیا ہے اور نہ ہی لیں گے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ وقت کی آواز ہے اور آنے والی حکومت کو پنجاب تقسیم کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اگلے عام انتخابات وقت پر نہیں ہوں گے اور نہ ہی انتخابات کے نتیجے میں ملک میں امن آئے گا اگلے عام انتخابات کے بعد ملک میں کسی بھی سیاسی جماعت کی اکثریت نہیں ہوگی اور کئی سیاسی جماعتوں پر مشتمل حکومت بنے گی جس سے ملک میں استحکام نہیں آسکے گا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…