منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

’’زینب کے بعد قصور کی تاریخ کا ایک اور اندوہناک واقعہ‘‘ پنجاب کے با اثر سیاسی شخص کی 4دوستوں سمیت اپنی ہی سابقہ بیوی کیساتھ اجتماعی جنسی زیادتی، خاتون کے جسم کو کس چیز سے داغتے رہے؟

datetime 10  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)قصور میں ایک اور اندوہناک واقعہ، سفاک شخص کی چار دوستوں کے ساتھ اپنی سابقہ بیوی سے اجتماعی جنسی زیادتی، پولیس خاتون کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ملزمان کی پشت بان بن گئی۔ تفصیلات کے مطابق قصور کے نواحی علاقہ جمیر کلاں میںسفاک جنسی ذہنیت کے حامل شخص نے چار دوستوں کے ساتھ مل کر اپنی سابقہ بیوی کو اجتماعی جنسی زیادتی

کا نشانہ بنا ڈالا ہے ، قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس متاثرہ خاتون کو تحفظ فراہم کرنے کے بجائے ملزمان کی پشت بان بن گئی ہے اور درخواست وصول کرنے اور ملزمان کے خلاف کسی بھی طرح کی صفائی کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ملزمان کی دھمکیوں اور ظلم و ستم سے تنگ آکر خاتون نے درخواست ہی واپس لے لی۔ رپورٹ کے مطابق اشرف نامی شخص نے خاتون سے ڈیڑھ سال قبل شای کی تھی۔شادی کے بعد دونوں کے ہاں ایک بیٹی کی ولادت ہوئی۔جب کہ اشرف بیٹے کا خواہش مند تھا،بیٹی کے پیدا ہونے پر اشرف نامی شخص غصے سے آگ بگولا ہو گیا۔اشرف نے اپنی بیوی کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیااور ایک دن طیش میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔بتایا جاتا ہے کہ اشرف کا تعلق ایک سیاسی پارٹی سے ہے۔اشرف نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ ایک روز اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اپنی سابقہ بیوی کے گھر پر دھاوا بول دیا اور اس کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جس کے بعد اشرف کے ساتھ آئے اس کے چار دوستوں نے خاتون کیساتھ زیادتی کی اور اشرف اور اس کے ساتھیوں نے یہ روز کا وطیرہ بنا لیا اور نشہ کر کے خاتون کے گھر پہنچ جاتے اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اس کے جسم پر سگریٹ بھی داغتے۔واقعہ کا علم علاقے کے لوگوں کو ہوا تو انہوں نے پولیس کو آگاہ کیا تا ہم پولیس نے فرضی کاروائی کرتے ہوئےمقدمہ درج کو کر لیا لیکن کسی بھی ملزم کو گرفتار نہ کیاجس پر اشرف نے شہہ پاکر اپنی سابقہ بیوی کو دھمکانا شروع کر دیاکہ وہ یہ مقدمہ واپس لے ورنہ دوسری صورت میں وہ اس کی بیٹی کو اغوا کر لیں گے۔بیٹی چھن جانے کے خوف سے خاتون کو مقدمہ واپس لینا پڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…