جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

وزارت خزانہ و وزارت تجارت کی ناقص پالیسیاں،پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی سب سے بدترین سطح پرپہنچ گیا، انتہائی افسوسناک انکشافات

datetime 12  اپریل‬‮  2018 |

لاہور (آن لائن) تاجر رہنما سابق صدر بورڈ آف مینجمنٹ قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور عارف قاسم نے پاکستان کی تجارت کو رواں مالی سال کے ابتدائی 9جولائی تا مارچ میں تجارتی خسارہ 17.3فیصد بڑھ کر 27ارب29کروڑ 90لاکھ ڈالر تک پہنچنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ سے ہی تجارتی خسارہ میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا

انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ و تجارت کی ناقص پالیسیوں کے باعث درآمدات اور برآمدات میں واضع فرق کی وجہ سے تجارتی خسارہ27ارب ڈالر سے تجاوزکرگیا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے صنعتکاروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ عارف قاسم نے کہا کہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ ہے انہوں نے کہاکہ برآمدات میں اضافہ کیلئے سستی توانائی کی فراہمی ناگزیر ہے کیونکہ خطے کے دیگر ممالک میں گیس اور بجلی کے نرخ پاکستان کے مقابلے میں پچاس فی صدتک کم ہیں اس کے علاوہ وہاں کم اجرتوں ر دستیاب افرادی قوت کے باعث ان ممالک کی برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوگا اس لیے گیس اور بجلی کے نرخوں میں کمی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے کیونکہ صنعتی پیداوار پر آنے والی لاگت میں اضافے کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں جاری مسابقت میں پیچھے رہی ہیں اور اسی وجہ سے ان کی جگہ دیگر ممالک کی مصنوعات لے رہی ہیں انہوں نے مزید کہا کہ برآمدا ت میں اضافہ کیلئے مراعات اور سیلز ٹیکس ریفنڈز کی فوری ادا کیے جائیں کیونکہ برآمدات کنندگان سرمائے کی کمی کا شکار ہیں برآمدات میں کمی کی ایک یہ بھی اہم وجہ ہے اس جانب خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کیونکہ برآمدات کسی بھی ملک کی معیشت کے استحکام کی ضامن ہیں۔ تاجر رہنما سابق صدر بورڈ آف مینجمنٹ قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور عارف قاسم نے پاکستان کی تجارت کو رواں مالی سال کے ابتدائی 9جولائی تا مارچ میں تجارتی خسارہ 17.3فیصد بڑھ کر 27ارب29کروڑ 90لاکھ ڈالر تک پہنچنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ سے ہی تجارتی خسارہ میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…