جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

چینی انجینئرز کو بدمعاشی مہنگی پڑ گئی، پولیس اہلکاروں کو پھینٹی کیوں لگائی؟ تحقیقاتی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات، ملک بدر کرنے کی سفارش

datetime 7  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خانیوال میں ایک چینی کمپنی کے ملازمین اور ان کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھگڑے کی انکوائری مکمل، پولیس نے حکومت سے پانچ چینی باشندوں کو ’ناپسندیدہ شخصیات‘ قرار دینے اور ملک بدر کرنے کی سفارش کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان میں فیصل آباد سے ملتان تک بننے والی ایم فور موٹروے پر کام کرنے والی

ایک تعمیراتی کمپنی سنکیانگ بیژن روڈ اینڈ بریج کمپنی کے نور پور کے مقام پر واقع کیمپ میں بدھ کے روز پولیس کے سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے اہلکاروں کے ساتھ ہونے والے جھگڑے کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد حکام کی جانب سے پولیس کو معاملے کی چھان بین کی ہدایت کی گئی تھی۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ چینی باشندے پولیس کے اہلکاروں کو مکے اور گھونسے رسید کر رہے ہیں. ان کو پولیس کے گاڑی پر چڑھتے بھی دیکھا جا سکتا ہے اور ان میں سے ایک نے پولیس اہلکار پر کرسی بھی پھینکی۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے خانیوال کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رضوان عمر گوندل نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کے گاڑی پر چڑھنے والے شخص چینی کمپنی کا کنٹری پراجیکٹ منیجر یُو لبنگ تھے. ’ان سمیت پانچ چینی باشندوں کو واقعہ کا ذمہ دار پایا گیا اور اعلیٰ حکام کو ان کی ملک بدری کی سفارش کی گئی ہے.‘ ان کا کہنا تھا شہباز نامی پولیس اہلکار کے خلاف چینی باشندے سے موبائل فون چھیننے پر کارروائی کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے. ان کی سفارشات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس واقعہ کے بعد سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے کیمپ میں تعینات تمام پرانے عملے کو نئے عملے سے بدل دیا جائے. ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر رضوان عمر گوندل کا کہنا تھا کہ ’چینی کمپنی کے ملازمین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان جھگڑا اس وقت ہوا

جب کسی بات پر ناراض ہو کر چینی ملازمین نے سپیشل پروٹیکشن یونٹ کے کیمپ کی بجلی اور پانی کاٹ دی. پولیس اہلکاروں کو رات گرمی اور مچھر سے مقابلہ کرتے گزری صبح جب چینی ملازمین کام پر جانے کے لیے کیمپ سے نکلنے لگے تو پولیس اہلکاروں نے گیٹ بند کر دیا. پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ چونکہ ان کے کیمپ میں بجلی اور پانی موجود نہیں تھا اس لیے وہ ڈیوٹی کے لیے تیار نہیں ہو پائے.

چینی ملازمین ایس پی یو کے اہلکاروں سے اس بات پر ناراض ہوئے تھے کہ ایک روز قبل انھوں نے کیمپ پر موجود نجی سکیورٹی کمپنی کے ان ملازمین کا اسلحہ اپنے پاس جمع کر لیا تھا جو چینی کمپنی سے گذشتہ چند ماہ کی تنخواہ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ناراض ہو کر چلے گئے تھے۔ پولیس کے مطابق ایم فور موٹروے پر کام کرنے والی اس چینی کمپنی نے کئی مقامی ٹھیکہ داروں کو

ان کے معاوضے کی رقوم کی ادائیگی نہیں کر رکھی اور پولیس کے خیال میں یہ ایسا کرنا از خود ان کی حفاظت کے لیے چیلنج ہو سکتا ہے. ان کا کہنا تھا کہ جن چینی باشندوں کو ملک بدر کرنے کی سفارش کی گئی ہے وہ ماضی میں بھی جھگڑوں اور دوسروں کو اکسانے جیسے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں. انھوں نے جھگڑے کے بعد ان سے بات چیت کرنے کے لیے آنے والے پولیس افسران سے ملاقات کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…