جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

طویل ملاقاتیں،بڑی تعداد میں مسلم لیگ (ن) کے وزراء اور ممبران اسمبلی کی پی ٹی آئی میں شمولیت، تحریک انصاف نے پارلیمانی ٹکٹوں کی تقسیم کے بارے میں بڑا فیصلہ کرلیا

datetime 28  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے وزراء اور ممبران اسمبلی کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے پیش نظر تحریک انصاف کے پارلیمانی ٹکٹوں کی تقسیم کا عمل فی الوقت موخر کردیا گیا۔ جلد دوبارہ نئی تاریخ کا اعلان ہوگا۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے اہم وزراء ممبران اسمبلی اور سابق وزراء کی پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں جس کے باعث پارلیمانی ٹکٹوں کی تقسیم اور فائنل امیدواروں کے ناموں کی لسٹ جاری کرنے

کا عمل روک دیا گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان سے حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے وزراء سمیت اہم شخصیات رابطے میں ہیں اور وہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرناچاہتے ہیں۔ جس کا وہ باضابطہ اعلان کرنا چاہتے ہیں جس کے باعث پارلیمانی ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے امیدواروں کو فائنل کرنے کا عمل روک دیا گیا ہے ۔ ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چاروں صوبوں سے مسلم لیگ (ن) ‘ پیپلزپارٹی ‘ جے یو آئی سمیت دیگر جماعتوں کی اہم شخصیات پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے جارہی ہے ۔ حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے اہم وزراء اور ممبران اسمبلی ترقیاتی فنڈز ملنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔دریں اثناء پی ٹی آئی کی بھکر سے مسلم لیگ ن کی کئی وکٹیں گرانے کے لئے سیاسی شخصیات سے رابطہ عمران خان کی مسلم لیگ ن کے بھکر سے اتحادی دھڑے کے رہنماء سے کئی گھنٹے کی ملاقات اہم پیش رفت بلدیاتی الیکشن کی طرح عام انتخابات میں مسلم لیگ ن کے خلاف امیدواروں کی سیاسی پوزیشن مظبوط ہوجائے گی تفصیلات کے مطابق ضلع بھکر سے مسلم لیگ ن کے ایک مظبوط علاقائی دھڑے سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیرکی گذشتہ دنوں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے کئے گھنٹے ملاقات ہوئی جس میں عمران خان نے اس گروپ کو پی ٹی آئی میں شمولیت کی دعوت دی

اور آئندہ انتخابات میں ضلع کے تمام حلقوں سے پارٹی ٹکٹ دینے کی آفر کی ہونے والی اس ملاقات میں اصولی فیصلہ کرلیا گیا ہے بھکر سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیت نے عمران خان سے ملاقات کی تصدیق کی ہے پر تاحال شمولیت کے فیصلہ کی تائید نہیں کی ہے بھکر کا یہ سیاسی دھڑا پی آئی ٹی میں چلا جاتا ہے تو آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ ن کو یہاں سے سخت ترین مقابلہ کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ بلدیاتی الیکشن میں شیر اس علاقائی دھڑے سے بری طرح شکست سے دوچار ہوا تھا اس گروپ میں سے

ایک ایم پی اے اس وقت مسلم لیگ ن میں شامل ہیں 2002کے الیکشن میں اس سیاسی دھڑا نے چوہدری شجاعت کو ایم این اے بنوایا 2008کے الیکشن میں آزاد الیکشن لڑ کر کامیاب ہوئے اور مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے ضمنی الیکشن میں میاں شہباز شریف کو بلامقابلہ ایم پی اے بنوایا ،بلدیاتی الیکشن میں ضلع کونسل میں واضح کامیابی حاصل کی لیکن مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑانئی ضلع کی حلقہ بندی سے

اس سیاسی دھڑے کی سیاسی پوزیشن اور بھی مضبوط ہوگئی آئندہ عام انتخابات کے جوڑتوڑ اور رابطوں میں شدت آتے ہی پی پی پی کی قیادت بھی مسلسل رابطہ کررہی ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاق اور پنجاب کی پی ٹی آئی سے وابستہ شخصیات بھی اس دھڑا سے رابطہ میں ہیں اور اس سلسلہ میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے اس دھڑے کے سابق صوبائی وزیر کی ملاقات کڑی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…