جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

ۜانتقام نہیں انصاف۔۔سیاستدانوں کو انڈر پریشر رکھنے کیلئے کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے، بند کمروں میں الیکشن نہ ہونے کی باتیں، فضل الرحمن آخر دل کی بات زبان پر لے ہی آئے، بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 26  مارچ‬‮  2018 |

رحیم یارخان(این این آئی) جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جو کچھ بلوچستان اور سینٹ کے الیکشن میں نظر آیا وہ کمزور ترین جمہوریت کی علامت ہے ۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے رحیم یار خان میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ سینٹ کے الیکشن سے جمہوریت کو شکست ہوئی ہے اوربند کمروں کی سیاست کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے ۔سیاسی جماعتوں کو اپنی ترجہات کا تعین کرنا ہوگا۔

پارٹی مفادات کو سامنے رکھنے کی بجائے ملک اورسیاست کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔انہوں نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے کہ انتخابات بروقت کرائے جائیں۔انتخابات میں دیر ہوئی تو عوام کا اعتماد نہیں رہے گا الیکشن نہ ہونے کی اگر کوئی بند کمروں میں باتیں کررہے ہیں تو انہیں اجتناب کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کا اہم کردارنظر آئے گا اورحلقہ بندیوں میں کہیں 4 لاکھ تو کہیں 10لاکھ کی آبادی پر حلقہ بنایاگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فاٹا کا انضمام نہیں ہوگا وہاں کے انفرااسٹکچرکو بہتر کرنے کی ضرورت ہے اور اداروں کو انصاف کے جزبے سے سننا چاہئے ،انتقام کے جزبے سے نہیں۔ مولا فضل الرحمن نے کہا کہ سیاستدانوں کو کس طرح انڈر پریشر رکھا جائے یہ سیاست کا حصہ بن گیا ہے۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انتخابی اتحاد ایم ایم اے کا ہوگا اس کے تحت انتخابات لڑیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…