جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

نگران سیٹ اپ کا مرحلہ وقت پر مکمل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا ،نواز شریف ،مریم نواز کو سزا ہو ئی تو فیصلہ ممنون حسین نہیں بلکہ صادق سنجرانی کرینگے، شیخ رشید کے چونکادینے والے انکشافات

datetime 25  مارچ‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ نگران سیٹ اپ کا مرحلہ 60یا90روز میں مکمل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا اور یہ معاملہ نومبر تک جاتا ہوا دیکھ رہا ہوں، اگر یہ اس سے آگے جارہا ہے تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے ،حکمران چیئرمین سینیٹ کے پیچھے اس لئے پڑے ہیں کیونکہ انہیں علم ہے کہ اگرنواز شریف اورمریم نواز کو سزا ہو گی تو یہ معاملہ اپیلوں سے ہوتا ہواصدر مملکت کے پاس جائے گا اور اس وقت تک صادق سنجرانی یہ عہدہ سنبھال چکے ہوں گے،

جوڈیشل مارشل لاء کی بات کا مقصد یہ تھا کہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کیلئے چیف جسٹس خود نگراں وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کے ناموں کا اعلان کریں ۔ لاہور کے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے کہا کہ میری چیئرمین نیب سے درخواست ہے کہ وہ تمام طرح کے کیسز کو حتمی شکل دیں،ا ایل این جی کے کیس کو جلد سے جلد دیکھیں ۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن صفدر روز میرے خلاف بات کرتا ہے اس نے کیبنٹ ڈویژن سے 9ارب روپے نکلوائے ہیں اور میں انہیں بھی مناظرے کا چیلنج دیتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت اس وقت ملک کا سب سے بڑا ایشو ہے ۔ جوڈیشل مارشل لاء کی بات آئین و قانون کے مطابق کی ہے ، جوڈیشل مارشل لاء کی بات کا مقصد یہ ہے کہ شفاف انتخابات کیلئے چیف جسٹس خود نگراں وزیراعظم اوروزرائے اعلیٰ لگائیں اور بے شک ریٹائرد ججز لگا دیں ۔ انہوں نے کہا کہ حلقہ بندیوں کا مسئلہ ہے سمجھ نہیں آتی کس طرح ایک ماہ میں فیصلے ہوں گے ، میری اپنی سیاسی سوچ کے مطابق نگران سیٹ اپ کا مرحلہ 60یا90روز میں مکمل ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا اور یہ معاملہ نومبر تک جاتا ہوا دیکھ رہا ہوں اگر کرا لیں تو کمال ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ ہر کوئی چیف جسٹس کی طرح ہفتہ اور اتوا رکو کام نہیں کرتا اور وہ ٹھیک کام کر رہے ہیں ۔چیف جسٹس صاحب خود نگراں سیٹ اپ کا اعلان کریں نہیں وگرنہ انہوں نے

پاکستان کے لیے جو کچھ بھی کیا ہے وہ سب ضائع ہوجائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایک آزاد گروپ اور بلوچستان سے ایک آزادد پارٹی باہر آئے گی ۔ آصف علی زرداری اور نواز شریف الگ الگ ہیں لیکن خورشید شاہ اور نواز شریف ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ نواز شریف نے جیسی تعیناتیاں کی ہیں وہ بتانا چاہتے ہیں میں ایسا بھی کر سکتا ہوں۔ انہوں نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے کے حوالے سے کہا کہ اگر نواز شریف او رمریم نواز شریف کو سزا ہوئی تو اپیلوں کے مراحل سے گزرنے کے بعد

جب معاملہ صدر تک پہنچے گا تو اس وقت تک صادق سنجرانی صدر کے عہدے پر بیٹھ چکے ہوں گے اور یہ کبھی بھی سنجرانی کے پاس اپیل نہیں کریں گے۔ انہوں نے چوہدری نثار کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ اب بہت تاخیر ہو چکی ہے اب جو بھی فیصلہ کرنا ہے انہوں نے خود کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں نگران سیٹ اپ کیلئے جس طرح لوگ سی ویز لے کر پھر رہے ہیں ایسے تو ڈرائیور کے لئے بھی ہوتا۔ کچھ اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ٹھیکیدار بن چکے ہیں

بلکہ بعض تو دوائیوں کے سپلائرز بن چکے ہیں ،اپنے بھائیوں کو گلی محلوں کے ٹھیکے دلوائے جارہے ہیں ،اس جمہوری نظام کو دیمک لگ گئی ہے او ریہ کمزور سے کمزور ہوتا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا میں مریم نواز کا بیحد احترام کرتا ہوں لیکن وہ دو مربتہ حملہ کر چکی ہیں تیسری بارکریں گی تو جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ جوڈیشل مارشل لاء کوجوڈیشل کمیٹی ،

جوڈیشل ایگزیکٹو یا سپریم کونسل جو بھی مرضی نام دے لیں لیکن صاف اور شفاف انتخابات کیلئے طاقتور نگران حکومتیں ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آج تک کوئی بھی ایمنسٹی سکیم کامیاب نہیں ہوسکی ۔سوئس بینکوں سے لوگوں نے پیسے نکلوا کر دوسرے ممالک میں منتقل کر لئے ہیں اور اب اب بہت دیر ہوچکی ہے ۔اگر صرف نواز شریف کی لوٹی ہوئی دولت ہی پاکستان میں واپس آجائے تو باقی تمام مجرموں اور کرپٹ عناصر پر خوف طاری ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…