ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ججوں کا اوپن ٹرائل،عدالتوں میں سے ہی بڑی آواز بلند ہونا شروع ہو گئیں،تحریری رائے دیدیں

datetime 25  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) وفاقی حکومت کے بعد عدالتی معاونین مقرر کیے گئے 2 سنیئرقانون دانوں نے بھی ہائیکورٹس کے 2ججوں کی سپریم جوڈیشل کونسل میں مس کنڈکٹ کے الزامات کی کھلی سماعت سے متعلق استدعا کی تائید کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق منیر اے ملک ایڈووکیٹ نے تحریری طورپراپنی رائے دیتے کہاکہ ان کیمرہ سماعت کے مقابلے میں اوپن ٹرائل سے عدالتی نظام پر اعتماد بڑھے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب ایک جج کی ساکھ پرسوالیہ ہو تو شہریوں کو حق حاصل ہے کہ وہ معاملے کے بارے میں جانیں اور کھلی سماعت سے یہ یقینی بنایاجاسکے گاکہ یہ عمل دیانتدارانہ ہوگا،کھلی سماعت سے نہ صرف لوگ الزام کی نوعیت کے بارے میں بہترطورپر جان سکیں گے بلکہ یہ بھی واضح ہوگاکہ عدلیہ اپنے ارکان سے کس طرح نمٹتی ہے۔انضباطی کارروائی کو خفیہ رکھنے سے یہ تاثرملتاہے کہ ججوں خصوصی طرزعمل سے فائدہ اٹھارہے ہیں، بندکمرہ سماعت سے غلط خبریں چلتی ہیں اور رازداری اور انضباطی کارروائی کے نظام کی ساکھ متاثرہوتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…