جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

99میں نواز شریف کے دور حکومت میں کیسے ایک سرکاری افسر کا تبادلے کیلئے ارکان اسمبلی ، سینیٹرز اور سیاسی جماعتیں جسٹس ثاقب نثار کے خلاف اکٹھی ہوئیں، چیف جسٹس نے نواز شریف کی سفارش پرانہیں کیا جواب دیا تھاکہ وہ سخت ناراض ہو گئے

datetime 23  مارچ‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے معروف کالم نگار جاوید چوہدری اپنے کالم میں نواز شریف کے دوسرے وزارت عظمیٰ کے دور میں آج کے چیف جسٹس اور اس وقت کے سیکرٹری لا ثاقب نثار کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جسٹس ثاقب نثار اس وقت بھی ایک قابل اور ایماندار افسر ثابت ہوئے ۔اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف سے اختلافات بارے ایک واقعہ سناتے ہوئے

جاوید چوہدری نے انکشاف کیا کہ ملک میں ایک کسٹم ٹریبونل ہوتا ہے‘ یہ ٹریبونل کسٹم سے متعلق درخواستوں کا فیصلہ کرتا ہے‘ 1997ء میں ہائی کورٹ کے ایک جج مجیب اللہ صدیقی ٹریبونل کے سربراہ تھے‘ یہ حیات ہیں اور کراچی میں رہتے ہیں‘لاء سیکرٹری تمام ٹریبونلز کا باس ہوتا ہے‘ مجیب اللہ صدیقی میاں ثاقب نثار کے پاس آئے اور ان سے کہا ”آپ میرے باس ہیں‘ آپ باس کی حیثیت سے یقینا مختلف مقدموں میں مختلف لوگوں کی سفارش کریں گے‘ میں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں‘ میں آپ کی کوئی سفارش قبول نہیں کروں گا چنانچہ آپ سفارش کر کے خود کو اور مجھے شرمندہ نہ کیجئے گا“ میاں ثاقب نثار مجیب اللہ صدیقی کی بات سن کر خوش ہو گئے‘ انہوں نے انہیں یقین دلایا ”میری طرف سے آپ کو کبھی کوئی سفارش نہیں آئے گی“صدیقی صاحب شکریہ ادا کر کے چلے گئے‘ یہ چند دن بعد دوبارہ تشریف لائے اور لاء سیکرٹری سے کہا ”سر پشاور میں ٹریبونل کے ایک ممبر کی شہرت بہت خراب ہے‘ میرے پاس اس کے خلاف شکایات کا ڈھیر لگا ہے‘ میں اسے کراچی ٹرانسفر کرنے لگا ہوں‘ یہ بہت رسائی والا شخص ہے‘ آپ پر شدیددباؤ آئے گا“ میاں ثاقب نثار نے جواب دیا ”آپ بے خوف ہو کر تبادلہ کریں‘ میں کسی قیمت پر کوئی دباؤ قبول نہیں کروں گا“ مجیب اللہ صدیقی نے ممبر کا تبادلہ کر دیا‘ یہ تبادلہ بھڑوں کا چھتہ ثابت ہوا‘پہلے فاٹا کے ارکان اسمبلی لاء سیکرٹری کے پاس آئے‘

پھر کے پی کے کے سینیٹرز اور ایم این ایز آنے لگے اور آخر میں سیاسی جماعتیں بھی میدان میں کود پڑیں لیکن ثاقب نثار نے صاف انکار کر دیا‘ اس دوران حکومت اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے درمیان لڑائی شروع ہو گئی‘ حکومت کو سیاسی جماعتوں کی حمایت کی ضرورت پڑ گئی چنانچہ فاٹا اور اے این پی کے ارکان نے ممبر کے تبادلے کا نوٹی فکیشن واپس لینے کی شرط رکھ دی‘

وزیراعظم نے پورا زور لگا دیا لیکن لاء سیکرٹری نہ مانے یہاں تک کہ سی بی آر (اب ایف بی آر) کے چیئرمین معین الدین درمیان میں آئے‘انہوں نے ممبر کو کسٹم میں واپس لیا اور پھر سی بی آر کے ذریعے اس کا تبادلہ پشاور کر دیایوں یہ بحران ٹلا‘۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…