ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

طارق شفیع کا جمع کرایاگیا معاہدہ بھی جھوٹ اور جعلی ثابت،لندن فلیٹس کی خریداری میں قطری خاندان کا کیا کردارتھا؟اہلی سٹیل ملز کی فروخت ،12 ملین درہم کی ٹرانزیکشن ،امارات حکومت کے جواب نے ’’شریفوں‘‘ کو پھنسادیا،چونکادینے والے انکشافات

datetime 22  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی ) احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف ،مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف لندن فلیٹس ریفرنس میں پاناما جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا کا بیان چوتھے روز بھی مکمل نہ ہوسکا ،واجد ضیانے عدالت کو بتایا کہ لندن فلیٹس کی خریداری میں قطری خاندان کا کسی قسم کا کوئی کر دار ثابت نہیں ہوا۔ عدالت نے واجد ضیا کو بیان مکمل کرنے کے لیے 27مارچ کو پھر طلب کرلیا ، عدالت نینواز شریف اور مریم نواز کی ایک ہفتے کے لئے عدالت حاضری سے استثنی کی درخواستیں مسترد کر دی۔

جمعرات کو اسلام آباد کی احتساب عدالت میں سابق وزیر اعظم نواز شریف۔مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے خلاف لندن فلیٹس ریفر نس کی سماعت فاضل جج محمد بشیر نے کی ۔نواز شریف اپنی صاحبزادی اور داماد کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔استغاثہ کے گواہ واجد ضیا نے چوتھے روز بھی اپنا بیان ریکارڈ کرایا، واجد ضیا نے کہا کہ اہلی سٹیل ملز کے 25 فیصد شئیرز فروخت معاہدے کی تصدیق کے لیے یو اے ای کو خط لکھا ایم ایل اے جواب کے مطابق اہلی سٹیل ملز کی فروخت کے معاہدے کا کوئی ریکارڈ نہیں اہلی سٹیل ملز کی فروخت پر 12 ملین درہم کی ٹرانزیکشن کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں۔ جے آئی ٹی سربراہ نے مزید بتایا کہ یو اے ای حکام کے مطابق طارق شفیع معاہدے کی تصدیق کا بھی ریکارڈ نہیں ملا طارق شفیع کی جانب سے جمع کرایا گیا معاہدہ جھوٹ اور جعلی ہے اس دوران مریم نواز کے وکیل نے اعتراض کیا کہ واجد ضیا ایم ایل اے سے پڑھ کر بیان لکھوارہے ہیں جس پرفاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ آپ دستاویزات دیکھ سکتے ہیں، پڑھ نہیں سکتے ۔واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی نے سپریم کورٹ کے حکم پر 13 سوالات کے جوابات دئیے اپنے اور تمام جے آئی ٹی ممبران کے دستخط کی تصدیق کرتا ہوں ملزمان کی طرف سے 2 قطری خط پیش کیے گئے دونوں قطری خطوط میں تضاد ہے بغیر رسید 12 ملین درہم قطری شہزادے کو دینے کا دعوی کیا گیا

ملزمان کی طرف سے قطری شہزادے کے ساتھ سرمایہ کاری کا کوئی ثبوت نہیں دیا گیا 2006 میں حسین نواز کی قطری شہزادے کے ساتھ سیٹلمنٹ کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں، جے آئی ٹی نے دستیاب ریکارڈ سے نتیجہ اخز کیا کہ لندن فلیٹس سے قطری خاندان کا کوئی لینا دینا نہیں التوفیق سیٹلمنٹ میں قطری خاندان کا ذکر نہیں ملتا1999 میں ہونے والی التوفیق سیٹلمنٹ کے مطابق لندن فلیٹس شریف فیملی کی ملکیت میں تھے سیٹلمنٹ کے مطابق لندن فلیٹس نواز شریف سمیت شریف خاندان کے دو افراد کی ملکیت تھے۔

کہا گیا بیئرر شئیرز حمد بن جاسم کے نمائندے نے حسین نواز کے نمائندے کو منتقل کئے شئیرز کی منتقلی ، آٹھ ملین ڈالر اثاثوں کی منتقلی کی کوئی رسید یا دستاویز جے آئی ٹی کو فراہم نہیں کی گئی جے آئی ٹی نے حمد بن جاسم کا بیان ریکارڈ کرنے کی کوشش کی تھی قطری شہزادے سے خط و کتابت ثبوت ہے کہ ہم نے تمام ممکنہ کوششیں کیں قطری شہزادے نے ہمارے خطوط کے جواب میں پہلے تاخیری حربے آزمائے بعد میں قطری شہزادے نے قانونی جواز بنائے

کہ پاکستان عدالت میں پیش نہیں ہو سکتا قطری شہزادے نے ضمانت مانگی تھی کہ اسے کسی عدالت میں پیش ہونے کو نہیں بولا جائے گا جے آئی ٹی نے اس کے باوجود کافی شواہد اکٹھے کئے یو اے ای گورنمنٹ ، بی وی آئی کا جواب ، ریڈلے کی رپورٹ اور ورک شیٹ موجود ہیں تمام شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ فلیٹس سے متعلق قطری شہزادے کے موقف کی کوئی حیثیت نہیں ،عدالت نے کیس کی سماعت 27 مارچ تک ملتوی کر دی ۔واجد ضیا آئندہ سماعت پر بھی اپنا بیان جاری رکھیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…