ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پارلیمنٹ اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہی رکھے تو بہتر ہوگا

datetime 16  مارچ‬‮  2018 |

جہانیاں(آن لائن) پیپلز پارٹی کے رہنما وسابق وزیر اعظم سیّد یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ نگران وزیر اعظم کا فیصلہ آئین کے مطابق لیڈر آف دی ہاؤس اور لیڈر آف دی اپوزیشن نے کرنا ہے، پارلیمنٹ اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہی رکھے تو بہتر ہوگا،انتخابات میں کسی پارٹی سے ا تحادکی باتیں قبل از وقت ہیں تاہم اگلی حکومت پیپلز پارٹی کی ہو گی،سینیٹ میں عددی اعتباد سے پیپلز پارٹی بڑی جماعت ہے اس لیے اپوزیشن لیڈر بھی اسی جماعت سے ہو گا ۔

پیپلز پارٹی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے، تین صوبوں کے فیصلے سے چیئرمین سینیٹ کا انتخاب فیڈریشن کی مضبوطی کا باعث بنے گا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار جہانیاں میں سابق ایم پی اے چوہدری اسلم رندھاوا کے بیٹے جوا درندھاوا مرحوم کی قل خوانی میں شرکت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ آئین کے مطابق نگران وزیر اعظم کا انتخاب اپوزیشن لیڈر اور لیڈر آف دی ہاؤس مل کر کتے ہیں اگر وہاں فیصلہ نہ ہو سکا تو پارلیمنٹ کمیٹی یا پھر جوڈیشری فیصلہ کرے گی،بہتر یہی ہو گا کہ پارلیمنٹ اپنی عزت اپنے ہاتھ ہی رکھے اور نگران وزیر اعظم کا پالیمنٹ میں ہی مل کر فیصلہ کرے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کے موقع پر پیپلز پارٹی کی جانب سے کسی جماعت سے اتحاد کرنے یا نہ کرنے کی باتیں قبل از وقت ہیں ہمارا پی ٹی آئی سے اتحاد نہیں صرف سینیٹ الیکشن میں تعاون تھا لیکن ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ اگلی حکومت پیپلز پارٹی کی ہو گی۔انہوں نے کہا کہ سینیٹ میں پیپلز پارٹی عددی اعتباد سے بڑی جماعت ہے اس لیے اپوزیشن لیڈر پیپلز پارٹی سے ہی ہو گا پیپلز پارٹی اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے ذوالفقار علی بھٹو نے چھوٹے صوبوں کی محرومیوں کو دیکھتے ہوئے سینیٹ کا ادارہ قائم کیا ،اب تین صوبوں نے فیڈریشن کی مضبوطی کیلئے مل کر چیئرمین سینیٹ منتخب کیاہے اس لیے اپوزیشن لیڈر بھی متفقہ ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا پی ٹی آئی سے کوئی سیاسی اتحاد نہیں ہوا۔

صرف چیئرمین سینیٹ کے الیکشن کیلئے تعاون کیا گیا ہے اب بہتر ہو گا کہ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر متفقہ طور پر لایا جائے دوسری صورت میں الیکشن ہوگا اور پیپلز پارٹی سینیٹ میں عددی اعتبار سے بھی بڑی جماعت ہے ۔انہوں نے کہاکہ میثاق جمہوریت کے تحت آئین میں جتنی بھی ترامیم ہوئیں ان کا کریڈٹ پیپلز پارٹی کو جاتا ہے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ہم نے بھٹو کے اصل آئین کو بحال کیا یہ کارنامہ صرف پیپلز پارٹی کا ہی ہو سکتا ہے جو کہ اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ متحدہ اپوزیشن کے تعاون سے ہی چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کا انتخاب ہوا اگر متحدہ اپوزیشن نگران سیٹ اپ کیلئے متفقہ لائحہ عمل اختیار کرے تو اس کے بہتر نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…