ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

جاپان کا شہری پاکستانی شہری کے ہاتھوں لٹنے کے بعدانصاف کے حصول کیلئے پشاورپریس کلب پہنچ گیا،افسوسناک انکشافات

datetime 16  مارچ‬‮  2018 |

پشاور(نیوز ڈیسک) گاڑیوں کے سپئرپارٹس کے کاروبارسے منسلک جاپان کا شہری پاکستانی شہری کے ہاتھوں لوٹنے کے بعدانصاف کے حصول کیلئے پشاورپریس کلب پہنچ گیا۔جہاں انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان،وفاقی حکومت اورچیئرمین پی ٹی آئی سے متعلقہ شخص کے خلاف کارروائی اورلوٹی گئی رقم واپس کرنے کی اپیل کی ۔پشاورپریس کلب میں مترجم باچاخان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوبورومیامانے بتایاکہ انہوں نے پشاورکے علاقے کاکشال کے رہائشی منظورولدہدایت الرحمان کوملازمت دی

اوران پراندھااعتمادکرکے انکی بیوی بچوں کوانکے کہنے پرجاپان کے ویزے لگاکروہاں بلالیاانکی رہائش ،علاج معالجہ اوردیگراخراجات بھی برداشت کئے جبکہ منظورکے ہاتھوں گاڑیوں کے سپئیرپارٹس سے بھرے کنٹینرزدبئی بھجوادئیے جہاں انہوں نے آگے سے 2کروڑ20لاکھ روپے رقم تووصول کرلی تاہم اس رقم کی ادائیگی مجھے نہیں کی اوررقم لوٹنے کے بعدوہ پاکستان آگیا۔متاثرہ جاپانی شہری کاکہناتھاکہ انہوں نے منظورکے خلاف دبئی میں بھی ایف آئی آردرج کرائی ہے جبکہ یہاں بھی انہوں نے جاپانی ایمبیسی میں درخواست دی تاہم انہوں نے یہ کہہ کرتعاون سے انکارکردیاکہ منظورکے ساتھ کاروبار جاپانی قانون کے تحت تحریری معاہدہ کیوں نہیں کیاجبکہ دوسری جانب پشاورمیں گلبہارتھانہ کے ایس پی نے ہمیں ڈی آرسی کے بھیجاجس کے سامنے منظورکے والدین اسکے جاپان جانے سے بھی انکاری ہوگئے تاہم ہمارے پاس تمام باتوں کے ثبوت موجودہیں جبکہ دوسری جانب منظورکی وکالت ایک سرکاری وکیل سلیم اقبال کررہاہے جوسمجھ سے بالاترہے کہ کیسے ایک سرکاری وکیل ملزم کی وکالت کررہاہے ۔انہوں نے کہاکہ منظوروالدین اوربیوی کی انکی پشت پناہی سے صاف ظاہرہوتاہے کہ پوراخاندان اس جرم میں برابرکے شریک ہیں۔متاثرہ جاپانی شہری نے یہ بھی گلہ کیاکہ خیبرپختونخواکی مثالی پولیس نے بھی انکے ساتھ کوئی تعاون نہیں جبکہ چیمبرکودرخواست دینے کے باوجودبھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی ۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان ،وفاقی وصوبائی حکومت ،چیئرمین پی ٹی آئی سے اپیل کی کہ انکی لوٹی گئی رقم واپس دلانے کیلئے منطورکے خلاف کارروائی کی جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…