جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی غیر معمولی قائدانہ صلاحیتیں اور بروقت ڈلیورننس ،پارٹی کی کمان سنبھالنے کے لئے تیار

datetime 13  مارچ‬‮  2018 |

لاہور(پ ر)مسلم لیگ نون کی مرکزی جنرل کونسل کے اجلاس میں مستقل پارٹی صدر کا انتخاب کر لیا گیا ، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف مسلم لیگ نون کے صدر کا منصب سنبھالیں گے۔ جبکہ نواز شریف کو تاحیات پارٹی کے قائد کا درجہ حاصل رہے گا۔آج اسلام آباد میں مسلم لیگ نون کی مرکزی جنرل کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور سابق پارٹی صدر نواز شریف سمیت دیگر اراکینِ

پارٹی نے شرکت کی۔اجلاس کے اہم نکات میں سے ایک پارٹی کے لئے صدر کا انتخاب تھا۔ جماعت کی مرکزی جنرل کونسل کے اجلا س میں وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو پارٹی کا مستقل صدر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو غیر معمولی کارکردگی اور بہترین حکمت عملی کی بنیاد پر پارٹی صدارت کے لئے نامزد کیا گیا تھا ۔ جبکہ اس سے قبل پارٹی اراکین نے شہباز شریف کو قائم مقام صدر بھی منتخب کر لیا تھا۔آج وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو باقاعدہ طور پارٹی کا مستقل صدر منتخب کر لیا گیا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پارٹی صدارت کا یہ عہدہ بلا مقابلہ جیتا ہے۔نو منتخب پارٹی صدر شہباز شریف بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں ۔ صحت عامہ کا منصوبہ جات ہوں یا عوام کو سستی اور آرام دہ سواری کی فراہمی، انکی سرپرستی میں پنجاب میں ہوئی تعمیر و ترقی کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ جبکہ مضبوط قیادت، پختہ ارادے، بہترین حکمت عملی،فرض شناسی، متعدد منصوبوں کی بروقت تکمیل ، شعبہ تعلیم اور شعبہ صحت میں انقلابی اصلاحات ، گڈ گورننس اورفوری ڈلیورننس جیسی خوبیاں نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر شہباز شریف کی پہچان ہیں۔آج وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اپنی ان ہی خصوصیات کی بدولت پارٹی کی کمان سنبھال لی ہے اور آج سے بطور پارٹی صدر جماعت کی بھی قیادت کریں گے۔دوسری جانب پارٹی اراکین بھی شہباز شریف کی مضبوط قیادت میں کام کرنے کئے لئے کافی پرجوش دیکھائی دے رہے ہیں۔‎



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…