جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

نواز شریف پر جوتا پھینکنے والا شخص کون تھا ، سابق وزیراعظم نے جوتا لگنے کے بعد فوری طور پر کیا ،کیا

datetime 11  مارچ‬‮  2018 |

لاہور(نیو زڈیسک ) سابق وزیراعظم نواز شریف پر تقریب کے دوران ایک شخص کی جانب سے جوتا پھینکا گیا جو ان کے سینے پر جالگا۔ گڑھی شاہو میں سابق وزیراعظم نواز شریف جامعہ نعیمیہ کے زیراہتمام تقریب میں شریک ہوئے اور جب وہ خطاب کے لئے ڈائس پر آئے تو ایک شخص نے ان کی جانب جوتا اچھالا جو ان کے سینے پر لگا۔جوتا اچھالنے والے شخص کو وہاں موجود افراد نے پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا اور ہال سے باہر لے جاکر سیکیورٹی اہلکاروں کے حوالے کردیا۔

سابق وزیراعظم پر جوتا پھینکنے والا شخص جامعہ نعیمیہ کا فارغ التحصیل طالبعلم ہے جس کی شناخت طلحہ منور کے نام سے ہوئی ہے۔جوتا پھینکے جانے کے واقعے کے بعد نواز شریف نے تقریب سے مختصر خطاب کیا اور واپس روانہ ہوگئے۔دریں اثنا سابق وزیراعظم نواز پر لاہور میں جامعہ نعیمیہ میں تقریب کے دوران ایک شخص کی جانب سے جوتا پھینکا گیا جو ان کے سینے پر جالگا۔گڑھی شاہو میں سابق وزیراعظم نواز شریف جامعہ نعیمیہ کے زیراہتمام تقریب میں شریک ہوئے اور جب وہ خطاب کے لئے ڈائس پر آئے تو ایک شخص نے ان کی جانب جوتا اچھالا جو ان کے سینے پر لگا۔جوتا اچھالنے والے شخص کو وہاں موجود افراد نے پکڑ لیا جسے تقریب سے باہر لے جانے کے بعد سیکیورٹی اہلکاروں کے حوالے کردیا۔نجی ٹی وی کے مطابق نوازشریف صورتحال پر سخت پریشان ہیں اور فوراً اپنی رہائش گاہ روانہ ہو گئے ۔تقریب کے دوران سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید بھی ان کے ہمراہ تھے ۔یاد رہے کہ گزشتہ روز سیالکوٹ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کے دوران ایک شخص نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کے چہرے پر سیاہی پھینک دی تھی جسے وہاں موجود افراد نے پکڑ کر زد و کوب کرنے کے بعد پولیس کے حوالے کیا۔بعدازاں وزیر خارجہ خواجہ آصف کی جانب سے ملزم کو معاف کرنے کے بعد سیاہی پھینکنے والے شخص کو چھوڑ دیا گیا۔گزشتہ ماہ 24 فروری کو نارووال میں ورکرز کنونشن سے خطاب کے دوران ایک نوجوان کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر جوتا پھینکا گیا تھا تاہم خوش قسمتی جوتا ان کے قریب سے گزر گیا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…