اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

’’ٹرانسپرنسی اتنی بنا دی ہے کہ پولیس کیلئے اپنے گناہ چھپانا مشکل ہو گیا‘‘ کامران خان نے خیبرپختونخوا پولیس کی تعریفوں کے پل باندھ دیے، کے پی پولیس میں کرپشن کیسے کم ہوئی؟ سوال پر آئی جی کے پی کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 10  مارچ‬‮  2018 |

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ کار کامران خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خیبرپختونخوا پولیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مشال کے قاتل عارف کو مردان سے گرفتار کر لیا گیا اور کوہاٹ کی طالبہ عاصمہ رانی کے قاتل کو شارجہ میں انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے پر کے پی کی پولیس تعریف کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کیسزکے مرکزی ملزموں کا تعلق کسی حوالے سے تحریک انصاف سے بھی تھا،

مشال قتل کیس کا مرکزی ملزم عارف پی ٹی آئی کا کونسلر تھا جبکہ عاصمہ رانی کا قاتل مجاہد آفریدی تحریک انصاف کے ضلعی صدر کا بھتیجا تھا، سینئر صحافی کامران خان نے کہاکہ ان دونوں ملزمان کا حکمران جماعت سے ہونے کے باوجود پولیس نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر جو پولیس کا نظام چل رہا ہے اس کا تحریک انصاف کی حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اس میں سرکاری مداخلت نہیں ہے۔ یہاں پر سیاسی مداخلت نظر نہیں آتی۔ سینئر صحافی کامران خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے نئے آئی جی صلاح الدین خان محسود بھی پولیس کو انتہائی پیشہ ورانہ انداز سے چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ شکایت یہ رہتی ہے کہ پولیس کے محکمے میں کرپشن ہے تو کے پی پولیس میں سب سے کم کرپشن ہے۔ اس موقع پر سینئر صحافی نے آئی جی خیبرپختونخوا سے سوال کیا کہ خیبرپختونخوا پولیس میں کرپشن کیسے کم ہوئی، جس پر آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ شکایات بہت کم آتی ہیں اور جب شکایات آتی ہیں تو اس پر سختی سے کارروائی کی جاتی ہے۔ اس میں کسی کو معاف کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی کسی معاف کرنے کی۔ اس کے علاوہ ہمارا یہاں پبلک ایکسس سسٹم ہے آئی جی کا، جس کے ذریعے آئی جی سے عوام رابطہ کرتی ہے اور آئی جی کے موبائل پر رابطہ کیا جاتا ہے۔ ہر ضلع میں ڈی پی او کا نمبر بھی ہوتا ہے جو ہر چھ ماہ بعد عوام کے لیے اپ ڈیٹ کر دیے جاتے ہیں۔ آئی جی نے کہاکہ ٹرانسپرنسی اتنی بنا دی ہے کہ پولیس کے لیے اپنے گناہ چھپانا مشکل ہو جاتا ہے لیکن اس کے باوجود کسی کی شکایت آئے تو پھر اس کو چھوڑا نہیں جاتا، پچھلے دس ماہ میں میں نے خود چودہ سو اہلکاروں کو سزا دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…