جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

’’ٹرانسپرنسی اتنی بنا دی ہے کہ پولیس کیلئے اپنے گناہ چھپانا مشکل ہو گیا‘‘ کامران خان نے خیبرپختونخوا پولیس کی تعریفوں کے پل باندھ دیے، کے پی پولیس میں کرپشن کیسے کم ہوئی؟ سوال پر آئی جی کے پی کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 10  مارچ‬‮  2018 |

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ کار کامران خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں خیبرپختونخوا پولیس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مشال کے قاتل عارف کو مردان سے گرفتار کر لیا گیا اور کوہاٹ کی طالبہ عاصمہ رانی کے قاتل کو شارجہ میں انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرنے پر کے پی کی پولیس تعریف کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کیسزکے مرکزی ملزموں کا تعلق کسی حوالے سے تحریک انصاف سے بھی تھا،

مشال قتل کیس کا مرکزی ملزم عارف پی ٹی آئی کا کونسلر تھا جبکہ عاصمہ رانی کا قاتل مجاہد آفریدی تحریک انصاف کے ضلعی صدر کا بھتیجا تھا، سینئر صحافی کامران خان نے کہاکہ ان دونوں ملزمان کا حکمران جماعت سے ہونے کے باوجود پولیس نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر جو پولیس کا نظام چل رہا ہے اس کا تحریک انصاف کی حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اس میں سرکاری مداخلت نہیں ہے۔ یہاں پر سیاسی مداخلت نظر نہیں آتی۔ سینئر صحافی کامران خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے نئے آئی جی صلاح الدین خان محسود بھی پولیس کو انتہائی پیشہ ورانہ انداز سے چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ شکایت یہ رہتی ہے کہ پولیس کے محکمے میں کرپشن ہے تو کے پی پولیس میں سب سے کم کرپشن ہے۔ اس موقع پر سینئر صحافی نے آئی جی خیبرپختونخوا سے سوال کیا کہ خیبرپختونخوا پولیس میں کرپشن کیسے کم ہوئی، جس پر آئی جی خیبرپختونخوا نے کہا کہ شکایات بہت کم آتی ہیں اور جب شکایات آتی ہیں تو اس پر سختی سے کارروائی کی جاتی ہے۔ اس میں کسی کو معاف کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی کسی معاف کرنے کی۔ اس کے علاوہ ہمارا یہاں پبلک ایکسس سسٹم ہے آئی جی کا، جس کے ذریعے آئی جی سے عوام رابطہ کرتی ہے اور آئی جی کے موبائل پر رابطہ کیا جاتا ہے۔ ہر ضلع میں ڈی پی او کا نمبر بھی ہوتا ہے جو ہر چھ ماہ بعد عوام کے لیے اپ ڈیٹ کر دیے جاتے ہیں۔ آئی جی نے کہاکہ ٹرانسپرنسی اتنی بنا دی ہے کہ پولیس کے لیے اپنے گناہ چھپانا مشکل ہو جاتا ہے لیکن اس کے باوجود کسی کی شکایت آئے تو پھر اس کو چھوڑا نہیں جاتا، پچھلے دس ماہ میں میں نے خود چودہ سو اہلکاروں کو سزا دی ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…