اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے موجودہ وزیرخارجہ 2011ء سے کس اسلامی ملک کی کمپنی کے ملازم ہیں؟پاکستان کے علاوہ اور کس ملک کی شہرت رکھتے ہیں؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 8  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزیر خارجہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کی نااہلی سے متعلق کیس میں ایک جج نے لارجر بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کرلی۔وفاقی دارالحکومت کی عدالت میں خواجہ آصف کی نااہلی کیس کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ میں سے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اس کیس کی سماعت سے معذرت کی جس کے بعد بینچ کے سربراہ جسٹس عامر فاروق نے کیس چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو واپس بھیج دیا۔خیال رہے

کہ اس لارجر بینچ میں جسٹس عامر فاروق، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میں گل حسن اورنگزیب شامل تھے، تاہم جسٹس میاں گل حسن کی معذرت کے بعد اب اسلام آباد ہائی کورٹ اس کیس میں نیا بینچ تشکیل دیگا۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی جانب سے 11 اگست 2017 کو خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت خواجہ محمد آصف کو نااہل قرار دینے کیلئے دائر کی گئی درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ وفاقی وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کی کمپنی میں ملازمت کے معاہدے اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔عثمان ڈار نے اپنی پٹیشن میں دعویٰ کیا تھا کہ خواجہ محمد آصف 2011 سے متحدہ عرب امارات کی کمپنی کے ساتھ خصوصی مشیر کے طور پر وابستہ ہیں۔اس درخواست کے بعد عثمان ڈار کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ اس معاملے پر لارجر بینچ تشکیل دیں جس پر عدالت نے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔بعد ازاں 24 جنوری 2018 کو سماعت کے دوران عثمان ڈار کی جانب دلائل دیے گئے تھے کہ خواجہ آصف نے نیشنل بینک آف ابوظہبی میں اکاؤنٹ کھلوانے کیلئے ابوظہبی کا ڈومیسائل جمع کرایا تھا جبکہ انہوں نے نیشنل بینک آف ابوظہبی کا اکاؤنٹ ٹیکس گوشواروں اور کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…