جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کے موجودہ وزیرخارجہ 2011ء سے کس اسلامی ملک کی کمپنی کے ملازم ہیں؟پاکستان کے علاوہ اور کس ملک کی شہرت رکھتے ہیں؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 8  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائی کورٹ میں وزیر خارجہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کی نااہلی سے متعلق کیس میں ایک جج نے لارجر بینچ کا حصہ بننے سے معذرت کرلی۔وفاقی دارالحکومت کی عدالت میں خواجہ آصف کی نااہلی کیس کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ میں سے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے اس کیس کی سماعت سے معذرت کی جس کے بعد بینچ کے سربراہ جسٹس عامر فاروق نے کیس چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو واپس بھیج دیا۔خیال رہے

کہ اس لارجر بینچ میں جسٹس عامر فاروق، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میں گل حسن اورنگزیب شامل تھے، تاہم جسٹس میاں گل حسن کی معذرت کے بعد اب اسلام آباد ہائی کورٹ اس کیس میں نیا بینچ تشکیل دیگا۔واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عثمان ڈار کی جانب سے 11 اگست 2017 کو خواجہ آصف کو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت خواجہ محمد آصف کو نااہل قرار دینے کیلئے دائر کی گئی درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ وفاقی وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کی کمپنی میں ملازمت کے معاہدے اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔عثمان ڈار نے اپنی پٹیشن میں دعویٰ کیا تھا کہ خواجہ محمد آصف 2011 سے متحدہ عرب امارات کی کمپنی کے ساتھ خصوصی مشیر کے طور پر وابستہ ہیں۔اس درخواست کے بعد عثمان ڈار کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی تھی کہ وہ اس معاملے پر لارجر بینچ تشکیل دیں جس پر عدالت نے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں لارجر بینچ تشکیل دیا تھا۔بعد ازاں 24 جنوری 2018 کو سماعت کے دوران عثمان ڈار کی جانب دلائل دیے گئے تھے کہ خواجہ آصف نے نیشنل بینک آف ابوظہبی میں اکاؤنٹ کھلوانے کیلئے ابوظہبی کا ڈومیسائل جمع کرایا تھا جبکہ انہوں نے نیشنل بینک آف ابوظہبی کا اکاؤنٹ ٹیکس گوشواروں اور کاغذات نامزدگی میں ظاہر نہیں کیا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…