اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

کس بات کی معافی؟ زینب زیادتی کیس، ڈاکٹر شاہد مسعود ’’ڈارک ویب‘‘ کے دعوے پر ڈٹ گئے، حیرت انگیز انکشافات، سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران بات بڑھ گئی، افسوسناک صورتحال

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ڈارک ویب کے متعلق دعویٰ کرنے والے سینئر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ عدالت قاتل عمران کے متعلق مخصوص معاملات دیکھ رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ڈارک ویب کے اندر غالباً اڑتالیس یا باہتر گھنٹوں کے آپشنز ہیں جس کے بعد ویڈیو ڈیلیٹ ہو جاتی ہیں، وہ سگنیچر چھوڑ جاتی ہیں اگر ایکسپرٹس ہوں تو وہ سگنیچر کے ذریعے ماضی میں ڈیلیٹ کی گئی ویڈیوز تک پہنچ جاتے ہیں۔

ایک صحافی نے ڈاکٹر شاہدمسعود سے سوال کیا کہ آپ معافی کس چیز کی مانگ رہے تھے جس کے جواب میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کہ کیا معاملہ تھا، انہوں نے کہا کہ تین آپشنز پر سزا دینے لگے تھے تو میں نے کہا کہ ایک منٹ آپ ٹھہریں کہ مجھے تو نہیں پتہ کہ کس قانون کے تحت آپ کہہ رہے ہیں۔ جس صحافی نے کہا کہ آپ معافی بھی بغیر سوچے سمجھے مانگتے ہیں اور پروگرام بھی سوچے سمجھے بغیر ہی کرتے ہیں، ڈارک ویب کے متعلق دعویٰ کرنے والے سینئر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود نے سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ عدالت قاتل عمران کے متعلق مخصوص معاملات دیکھ رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ڈارک ویب کے اندر غالباً اڑتالیس یا باہتر گھنٹوں کے آپشنز ہیں جس کے بعد ویڈیو ڈیلیٹ ہو جاتی ہیں، وہ سگنیچر چھوڑ جاتی ہیں اگر ایکسپرٹس ہوں تو وہ سگنیچر کے ذریعے ماضی میں ڈیلیٹ کی گئی ویڈیوز تک پہنچ جاتے ہیں۔  صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ کس بات کی معافی مانگ رہے تھے آپ جو مسترد کر دی چیف جسٹس نے، جس ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب نے مسترد نہیں کی بلکہ جواب مانگا ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود مطیع اللہ جان کے سوال پر برہم ہو گئے، ڈاکٹر شاہد مسعود پہلے برداشت کرتے رہے پھر ان کا صبر جواب دے گیا اور وہاں سے چلے گئے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود جانے لگے تو مطیع اللہ جان اپنے ساتھی صحافیوں کے ساتھ مل کر آوازیں لگاتے رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…