اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

راجہ فاروق حیدر کی کوششیں کامیاب، آزاد کشمیر کابڑا مطالبہ تسلیم کرلیاگیا، آزادکشمیر کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان اور فاٹا کو بھی فائدہ پہنچے گا، تفصیلات منظر عام پر آگئیں‎

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی تحریک پر قومی اقتصادی کونسل نے آزادکشمیر کابینہ ترقیاتی کمیٹی کی ترقیاتی منصوبہ جات کی منظوری کی حد 40کروڑ روپے سے بڑھا کر 1ارب روپے کر دی ہے جبکہ آزادکشمیر ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے ترقیاتی منصوبہ جات کی منظوری کی حد 10کروڑ روپے سے بڑھا کر 40کروڑ روپے کر دی ہے یہ اضافہ 2008کے بعد پہلی مرتبہ کیا گیا ہے

جبکہ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی اسی تحریک کی روشنی میں گلگت بلتستان اور فاٹا کے لیے ترقیاتی منصوبہ جات کی منظوری کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں منعقد ہوا کونسل کے اجلاس میںچاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی جبکہ آزادکشمیر کی نمائندگی وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کی چیف سیکرٹری آزادکشمیر بھی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں شریک ہوئے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے آزادکشمیر کابینہ ترقیاتی کمیٹی اور آزادکشمیر ڈویلپمنٹ ورکنگ کمیٹی کی ترقیاتی منصوبہ جات کی منظوری کی حد میں اضافے کی تجویز پیش کی جس پر کونسل نے فوری منظوری دے دی ہے آزادکشمیر کابینہ ترقیاتی کمیٹی کی ترقیاتی منصوبہ جات کی حد میں اضافے کاطویل عرصہ سے مطالبہ کیا جا رہا تھا کابینہ ترقیاتی کمیٹی کی ترقیاتی منصوبہ جات کی حد میں اضافے سے آزادکشمیر میں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا اور ریاستی حکومت اب 40کروڑ کے بجائے 1ارب روپے تک کے منصوبہ جات کی منظوری دے سکے گی اس اقدام سے تعمیر و ترقی کے منصوبوں میں تیزی آئے گا اور بڑے منصوبہ جات بروقت مکمل ہو سکیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…