اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

اسامہ آپریشن،حسین حقانی کی جانب سے امریکی حکام کو بھیجے جانے والے مبینہ خط میں پاک فوج کے بارے میں کیا لکھا ہواتھا؟تفصیلات منظر عام پر آگئیں، سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے میمو گیٹ کیس میں 5 روز میں حسین حقانی کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا ہے۔ بدھ کو سریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں حسین حقانی میموگیٹ کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ حسین حقانی کو واپس لانے کیلئے کیا اقدامات ہوئے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا

کہ گزشتہ روز اٹارنی جنرل کی سربراہی میں اہم اجلاس ہواتاہم مقدمے کے اندراج کیلئے 5 روز کا وقت دیا جائے۔عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا منظورکرتے ہوئے 5 روز میں حسین حقانی کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ مقدمے میں تاخیر کی وجہ کیا ہے جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ مقدمے کا اندراج بہت جلد ہوجائے گا۔گزشتہ سماعت پر میمو کیس اسکینڈل میں سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو حکم دیا تھا کہ اگر ایک ہفتے میں حسین حقانی کے حوالے سے قانونی اقدامات نہ ہوئے تو ڈی جی ایف آئی اے عدالت آجائیں جبکہ سپریم کورٹ نے میمو گیٹ کیس میں امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئیے۔واضح رہے کہ 2011 میں امریکہ نے ایبٹ آباد میں ایک گھر پر حملہ کرکے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو قتل کردیا تھا جس کے بعد اس وقت امریکہ میں مقرر پاکستان کے سفیر حسین حقانی کی جانب سے امریکی تاجر منصور اعجاز کی وساطت سے امریکی حکام کو مبینہ طور پر ایک خط بھیجا گیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ آپریشن کے بعد پاکستان میں فوجی بغاوت کا خطرہ ہے اس لئے امریکا پاکستان میں برسراقتدار جمہوری حکومت کی مدد کرے۔ میمو کے مندرجات سامنے آنے کے بعد نواز شریف سمیت کئی افراد نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…