جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

سمندر پار پاکستانیوں کا طویل انتظار ختم،ووٹ کا حق دینے سے متعلق بڑا فیصلہ ہوگیا

datetime 7  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن ) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز اور انسانی وسائل کے اجلاس میں یہ فیصلہ ہو اہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کاحق دینے کے لئے الیکشن کمیشن کو خط لکھا جائے گا۔ مذکورہ اجلاس پالیمنٹ ہاوس میں زیر صدارت چیئرمین کمیٹی سینیٹر میر باز خان منعقد ہوا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ دنیا میں بیشتر ممالک دوہری شہرت والوں کو ووٹ کا حق دیتے ہیں تو پھر ہم کیسے انہیں اس حق سے محروم رکھ سکتے ہیں ،

او پی ایف حکام نے کہا کہ قانون کے مطابق دوہری شہرت والے کو الیکشن لڑنے کا بھی حق نہیں ہے جس کے جواب میں سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ الیکشن لڑنا تو منع ہے لیکن ووٹ دینے پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے 85 لاکھ اوورسیز پاکستانیز ہیں اتنی بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو کیسے اس حق سے محروم رکھا جا سکتا ہے۔وفاقی سیکرٹری ہاشم پوپلزئی نے کہا کہ بہت سے ایسے ممالک بھی ہیں جہاں پاکستان ایمبیسی نہیں ہے وہاں ووٹ کاسٹ کرانے میں مشکلات درپیش ہو نگی ، اس کے جواب میں سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو ایسی درپیش مشکلات کا حل تلاش کرنے میں پارلیمنٹ مدد دے گی۔جنرل (ر) عبدالقوم نے کہا کہ اس ضمن میں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ بہت سے ایسے افراد بھی ہیں جھین آنکے عزیز وں نے ویزا بھجوا یا یا لگوا دیا اور وہ وہاں ہی رہ گئے جبکہ آن کے پاس وہاں کی شہرت بھی نہیں ہے تو ایسے لوگوں کا ڈیٹا بھی جمع کرنا ہو گا تاکہ آسے مد نظر رکھتے ہوئے فیصلے کئے جائیں۔کمیٹی نے متفقہ طور پر سمندر پار پاکستانیز کو ووٹ کا حق دینے کیلئے الیکشن کمیشن کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔ورازت سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل نے کمیٹی میں انکشاف کیا کہ اوورسیز پاکستانیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن کو کوریا جانے کے خواہشمندوں سے اس برس 58 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں

فی دراخواست ایک ہزار روپے فیس بھی وصول کی گی اس مد میں ادارے کو 5کروڑ 58 لاکھ روپے ملے جبکہ یہ ادارہ حکومت سے بجٹ نہیں لیتا ہے اسی فنڈ سے اپنے اخراجات پورے کرتا ہے گزشتہ برس اس ادارے کا خرچہ 14کروڑ روپے تھا جو کہ اس کی آمدن سے تین کروڑ روپے کم تھا۔ سینیٹر سعید مندوخیل نے کہا کہ کمیٹی اجلاس میں ہمیں وزارت کی جانب سے کوریا ہنر مند افرادی قوت بھجوانے کیلئے تحریری لسٹ دیتے ہوئے کہا گیا

کہ اگر آپ کے حلقوں میں کوئی اہلیت پر پورا اترنے والا ہو تو آس کا نام دے دیں جس پر ہم نے اپنے حلقوں میں ا سکی تشہر کی بہت سی درخواستیں بھی جمع کرائیں لیکن گزشتہ دونو ں فائنل لسٹیں آویزاں ہوئیں آن میں بلوچستان سے ایک بھی فرد نہیں ہے کیا آپ نے ہمیں حلقے کے لوفوں کے سامنے شرمندہ کرنے کیلئے یہ لسٹ دی تھی اور کیا آپ بلوچستان کو زرا برابر بھی اہمیت نہیں دیتے ہیں؟ اس کے جواب میں وفاقی سیکرٹری ہاشم پوپلزئی نے کہا کہ

افراد کی سلیکشن میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہے بلکہ جتنی بھی درخواستیں آتی ہے وہ تمام آس کے تفصیلات کے سمیت کوریا بھجوا دیتے ہیں اور کوریا والے خود حتمی لسٹ تیار کرتے ہیں اس سارے عمل میں ہمارا کردارکچھ نہیں ہے ، اس پر سینیٹر نجمہ حمید نے کہا کہ یہ بات مشہور ہے کہ ادارے والے اپنے رشتے داروں اور عزیزوں کو بھجوا دیتے ہیں ، وفاقی سیکرٹری ہاشم پوپلز ئی نے کہا کہ ایسا نہیں ہے یہ بے بنیاد تاثر پھیلاجاتا ہے

اس میں کوئی حقیقت نہیں کیونکہ اسے میں ہمارا کام صرف ڈاکخانے والا ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کی تعداد وزارت کے اعداد وشمار کے مطابق 85 لاکھ ہے لیکن اب تک آپ نے اپنی ہاوسنگ سوسائٹوں میں چند سو افراد کو ہی پلاٹ کا قبضہ دیا ، سینیٹر جنرل (ر) عبد القوم نے کہا کہ ریاض ملک نے کوئی پی ایچ ڈی نہیں کی ہو ئی لیکن وہ بحریہ ٹاون کو شاندار طریقہ سے چلا رہا ہے اور اسی طرح ڈی ایچ اے کہاں سے کہاں چلی گئی

لیکن باوجود اس کے کہ وزارت میں سی ایس پی آفیسر ز ہوتے ہیں جن کے پاس اتھارٹی بھی ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود بھی او پی ایف کی ہاوسنگ سوساٹیوں کا کوئی حال نہیں ہے۔ وزارت حکامنے بتایا کہ ہمارے ہاوسنگ پروجیکٹس بہت سے مسائل سے دوچار ہیں اور یہ مسائل ہم سے پہلے والوں نے پیدا کئے او ر اپنی جیبیں بھری اور چلتے بنیں ہم نے آکر بہت سے مسائل کو حل کیا ہے اور حال ہی میں زون فائیو میں او پی ایف ہاوسنگ سوسائٹی

کے ایک بلاک کا قبضہ بھی دے دیا ہے اور عدالتوں کے اندر معاملات ہیں آنہیں حل کرنے کیلئے کوشاں ہیں اس پر سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ آپ نے اپنی ہاوسنگ سوسایٹوں کی جو صورتحال بیان کی اس کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ کوئی بھی اس میں سر مایہ کاری نہیں کرے گا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر میر باز خان نے کہا کہ آج کمیٹی کا آخری اجلاس تھا میں تمام سینیٹرز اور میڈیا کا شکر گزار ہوں جنھوں نے بہت تعاون کیا۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…