اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بنی گالا غیر قانونی تعمیرات کیس، عمران خان کی دستاویزات کیساتھ گھر کا نقشہ منظور شدہ ہے یا نہیں ، تعمیرات غیر قانونی ہیںیا غیرقانونی؟ سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

datetime 6  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ شور مچا ہوا ہے کہ عمران خان کی دستاویزات درست نہیں ہیں، آپ کے گھر کا نقشہ بھی منظور شدہ نہیں ہے، جو سلوک سب کے ساتھ ہوگا وہی آپ کے ساتھ ہوگا، جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آپ بہت زیادہ سنجیدہ ہوگئے ہیں، کہہ دیں کہ قانون بننے کے بعد تعمیرات ریگولر کرالیں گے۔ منگل کو سپریم کورٹ میں بنی گالا غیر قانونی تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ شور مچاہوا ہے کہ عمران خان کی دستاویزات درست نہیں ، عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہماری دستاویزات کا عدالت جائزہ لے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی دستاویزات عدالت کو دی ہیں، بابر اعوان نے کہا کہ ہم نے جھوٹ بولا اور نہ کوئی جعل سازی کی، حکومت کی جعل سازی ثابت کردں گا، این اوسی پر یوسی سیکرٹری محمد عمر کے دستخط ہیں۔ نقشے کیلئے یونین کونسل کے پاس گئے ۔سیکرٹری لکھتا ہے عمران خان کی درخواست پر نقشہ طلب کیا۔ ثابت ہوتا ہے کہ نقشے کیلئے یونین کونسل سے رابطہ کیا ۔ کیا یوسی کے چند روپے کیلئے جعل سازی کریں گے؟ حکومت ہمارا میڈیا ٹرائل کرنا چاہتی ہے، یونین کونسل برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کرتی ہے۔جسٹس عمرعطاء بندیال آپ بہت زیادہ سنجیدہ ہوگئے ہیں ۔ آپ یہ بیان دیں ہم قانون بننے کے بعد تعمیرات ریگولر کرالیں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ بنی گالا میں سب کیلئے ایک ہی قانون بنے گا، آپ کے گھر کا نقشہ بھی منظور شدہ نہیں۔ ہماری نظر میں تعمیرات غیر قانونی ہیں۔ جو سلوک سب کے ساتھ ہوگا وہی آپ کے ساتھ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…