بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

سپریم کورٹ ٗشاہ زیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور مرتضٰی لاشاری کی درخواست ضمانت مسترد ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے زبردست فیصلہ سنادیا

datetime 5  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس میں مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور مرتضٰی لاشاری کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے اس کیس میں سندھ ہائی کورٹ کو میرٹ پر فیصلہ کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پیر کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے شاہ زیب قتل کیس میں ملزمان کی جانب سے دائر نظر ثانی اپیل پر سماعت کی۔سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ شاہ رخ قتل کیس میں غلطی کہاں ہوئی ہے ٗ

اگر کوئی غلطی نظر آئی تو اسے ضرور ٹھیک کریں گے۔شاہ رخ جتوئی کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالتِ عظمیٰ میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 184 کی شق 3 کا استعمال خالصتاً عوامی مفاد کے لیے ہوتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو اپنے طریقے سے دلائل دینے کا پورا حق حاصل ہے کیونکہ ہم نے کبھی بھی کسی کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے سے نہیں روکا اور ہمیں انصاف کے تقاضوں کو بھی پورا کرنا ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے پاس فیصلے پر اس کی اصل روح کے مطابق علمدرآمد کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی غلط تشریح کی جس پر لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے شفاف ٹرائل کا حق نہیں ملے گا۔شاہ رخ جتوئی کے وکیل کا کہنا تھا کہ کیا سپریم کورٹ آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت فیصلے کو کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کو سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا اختیار حاصل ہے ٗ اس وقت فیصلہ درست نہیں تھا اس لیے اس میں مداخلت کی گئی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سندھ ہائی کورٹ کے جج صاحبان عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف گئے اگر وہ اس کی صحیح تشریح کر لیتے تو یہ فیصلہ نہ دیتے۔لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ شاہ زیب قتل کیس کی ایف آئی آر میں انسدادِ دہشتگردی کی دفعات شامل نہیں تھیں، جبکہ اس واقعہ کو جاگیردارانہ طرز کی دہشتگردی قرار دیا گیا۔

چیف جسٹس نے لطیف کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سپریم کورٹ آئے ہیں تاہم ہم اس معاملے کو دیکھیں گے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ ہم نے صرف شاہ زیب قتل ازخود نوٹس کے پہلے فیصلے کو برقرار رکھا جبکہ ہم نے صرف انسدادِ دہشتگردی کی دفعات کے تحت ٹرائل کرنے کا کہا تھا۔عدالت نے شاہ زیب قتل کیس میں مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی اور مرتضیٰ لاشاری کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کو حکم جاری کیا ہے کہ اس معاملے میں میرٹ پر فیصلہ کیا جائے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…