بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کے کتنے کروڑ افرادگھر کی سہولیات سے محروم ہیں،ہر سال بے گھرافراد کی تعداد میں کتنے لاکھ افراد کا اضافہ ہورہاہے؟ عالمی بینک کی رپورٹ میں تشویشناک انکشافات

datetime 4  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نااہل ہونیوالے وزیراعظم نوازشریف کی ناقص پالیسیوں کے تحت پاکستان کی22کروڑ آبادی میں سے 1کروڑ افراد گھر کی سہولت سے محروم ہیں اور ہر سال7لاکھ افراد بے گھر افراد کی لسٹ میں شامل ہو رہے ہیں،ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال3لاکھ50ہزار رہائشی یونٹ تعمیر کئے جاتے ہیں

جو مجوزہ ضروریات کے لئے ناکافی ہیں جبکہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن اور منی لانڈرنگ سے کمائے گئے سرمایہ کی آمدن سے پاکستان میں گھروں کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوچکی ہیں۔کمرشل بینکوں نے گھروں کی تعمیر کے لئے75 ارب روپے سے زائد کے قرضے جاری کئے ہیں لیکن یہ قرضے غریبوں کی بجائے امیر طبقہ نے حاصل کر رکھے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں11 لاکھ افراد گھروں سے محروم ہیں اور کھلے آسمان تلے زندگی گزار رہے ہیں۔پاکستان میں گھروں کی سہولت ناپید ہے جس کی وجہ حکومت کی ناقص پالیسیاں ہیں۔ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں زیادہ تر سرماہی کاری میں کرپشن کا عمل دخل ہوتا ہے جبکہ دوسری طرف حکومت نے اس شعبہ پر ٹیکسوں کی بھی بھرمار کر رکھی ہے جبکہ اس سیکٹر کو نجی شعبہ کے حوالے کرنے سے بھی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے حکومت کی وزارت ہاؤسنگ عوام کو رہائش کی سہولتیں فراہم کرنے میں مکمل ناکام ہوئی ہے جبکہ بڑے بڑے شہروں میں گھروں کی قیمتیں اس قدر بڑھی ہیں کہ غریب عوام خریدنے کا سوچ بھی نہںی سکتا۔دوسری طرف ہاؤس بلڈنگ فنانس بنک اور اسلامی بنک وغیرہ بھاری سود پر قرضے دیتے ہیں جو عوام کے لئے قابل قبول نہیں ۔  نااہل ہونیوالے وزیراعظم نوازشریف کی ناقص پالیسیوں کے تحت پاکستان کی22کروڑ آبادی میں سے 1کروڑ افراد گھر کی سہولت سے محروم ہیں اور ہر سال7لاکھ افراد بے گھر افراد کی لسٹ میں شامل ہو رہے ہیں،ورلڈ بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال3لاکھ50ہزار رہائشی یونٹ تعمیر کئے جاتے ہیں جو مجوزہ ضروریات کے لئے ناکافی ہیں



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…