اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے کابل مارکیٹ کا بڑا حصہ کھو دیا ،دونوں ممالک کے درمیان تقریبا 70000 اشیاء سے بھرے کنٹینرز سفر کیا کرتے تھے اور اب تعداد کیا ہے؟ حیرت انگیزانکشافات

datetime 4  مارچ‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری زبیر موتی والا نے کہاہے کہ بھارت، افغانستان کی مارکیٹ میں داخل ہونے کے بعد پاکستان کے 50 فیصد شیئر کو کم کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ایک انٹرویو میں زبیر موتی والانے کہاکہ بھارت اور چین کے داخل ہونے کے باعث پاکستان کو مارکیٹ میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے،

جیسا کہ بھارت برآمدات پر بھاری سبسڈی فراہم کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران افغانستان کی پاکستان کے لیے تجارت 2.7 ارب ڈالر سے کم ہو کر 1.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ پاکستان، افغانستان میں اپنی روایتی مارکیٹس بھی کھو چکا ہے، جن میں گندم، مردوں اور خواتین کے لباس اور سرخ گوشت کی مارکٹس شامل ہیں۔زبیر موتی والا نے کہا کہ بھارت نے افغان مارکیٹس میں داخل ہونے کیلئے اشیاء پر سبسڈی جبکہ فضائی سفر کیلئے 75 فیصد تک رعایت بھی دے رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان شہریوں کو بھارت کا سفر کرنا آسان معلوم ہوتا ہے جس کی وجہ کم کرائے اور بغیر پولیس چیکس کے فری ویزا کی فراہمی ہے۔زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ ہر سال ہزاروں افغانی علاج کی غرض سے پشاور آتے تھے لیکن بھارت میں علاج کے لیے اخراجات میں کمی کے باعث وہ وہاں کا رخ کررہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ پشاور کا میڈیکل ٹورزم، جو افغان شہریوں کے باعث جاری تھا، صفر ہوگیا ہے اور حیات ا?باد کے ہسپتال خالی ہوگئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے لیے پاکستان سے جانے والے کنٹینرز کی تعداد بھی کم ہوگئی ہے، زبیر موتی والا نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تقریبا 70000 اشیاء سے بھرے کنٹینرز سفر کیا کرتے تھے تاہم ان کی تعداد اب کم ہو کر 7000 ہو گئی ہے جو افغانستان کیلئے اشیا ء کی ترسیل کے روٹ میں تبدیلی کی جانب ایک اشارہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…