بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

پاکستانی مردوں سے شادی کرنیوالی تمام چینی خواتین گرفتار،پاکستان بھی خاموش نہ رہا،بڑا قدم اٹھا لیا

datetime 4  مارچ‬‮  2018 |

گلگت (آن لائن)چین کے صوبے شنجیانگ میں پاکستانیوں کی 50 سے زائد چینی شریک حیات کی گرفتاری کے خلاف گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی (جی بی ایل اے) نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی ہے جس میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ گلگت بلتستان کے مردوں کی بیویوں کو جیل سے آزاد کرائے۔جی بی ایل اے میں رکن اسمبلی بی بی سلیمہ نے قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ خنجراب پاس کے ذریعے چین اور پاکستانی شہری تجارت کی غرض سے ایک دوسرے کے ملک میں دورے کرتے ہیںاور اسی دوران چینی خواتین سے شادیاں بھی ہوئیں جو دونوں ممالک کے قوانین کے ہرگز منافی نہیں۔

اس میں کہا گیا کہ کہ چین کی پولیس نے گزشتہ برس ان تمام خواتین کو حراست میں لے لیا جنہوں نے غیر ملکیوں سے شادیاں کیں اور ان میں وہ خواتین بھی شامل تھیں جنہوں نے پاکستانی مردوں سے شادی کی تھی۔ قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ چینی خواتین کی غیر قانونی حراست سے گلگت بلتستان میں بچوں سمیت اہل خانہ پریشانی کا شکار ہیں اس لیے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ چینی حکام سے مسئلے کے حل پر بات کریں۔قرار داد کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما جاوید حسین نے کہا کہ گلگت بلتستان اور صوبہ شنجیانگ کے شہریوں میں شادی کی روایت 10 برسوں سے قائم ہے تاہم متعدد چینی خواتین اپنے بچوں کے ہمراہ صوبہ شنجیانگ پہنچی تو انہیں گرفتار کرلیا گیا اور پاکستان میں ان کے اہل خانہ سخت پریشان ہیں۔جی بی ایل اے کے ڈپٹی اسپیکر جعفراللہ خان نے کہا کہ چین کی جانب سے مذہبی انتہا پسند کے خلاف صوبے بھر میں کریک ڈاؤن جاری ہے جس کے باعث پاکستانی مردوں سے شادی کرنے والی چینی خواتین کو بھی مشتبہ قرار دے کر حراست میں لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ حراست میں لی جانے والی تمام خواتین میں سے کسی کا بھی دہشت گردی یا انتہاپسندی سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔قرار داد میں کہا گیا کہ چینی ورکز اور انجینئرز کو خطے میں مقامی افراد سے کبھی کوئی شکایت نہیں رہی اور نہ ہی گلگت بلتستان میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا۔اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے راستے پاک۔چین تجارتی تعاون کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات بہت مضبوط ہیں واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے تقریباً 50 مردوں نے چین کے پڑوسی صوبے شنجیانگ میں مسلم چینی خواتین سے شادی کی اور چین کی پولیس نے گزشتہ سال خواتین کو حراست میں لینا شروع کردیا۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…