بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

کیا آپ جانتے ہیں یہ پاکستانی ریٹائرڈ فوجی کون ہے ؟جن کے نام پر کینیڈا کے دارالحکومت میں پارک کا نام رکھ دیاگیا ، جان کر پاکستانیوں کاسینہ فخر سے چوڑا ہو جائے گا

datetime 4  مارچ‬‮  2018 |

اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک)کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ایک پاکستانی ریٹائرڈ فوجی کے اعزاز میں ایک پارک کا نام ان کے نام پر رکھ دیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق یہ پاکستانی فوجی محمد عباس علی ہیں جو 1943ءمیں برٹش انڈین آرمی میں شامل ہوئے ۔ محمد عباس 15نومب1921ءکو بمبئی میں پیدا ہوئے اور اپنی تعلیم کلکتہ میں حاصل کی۔ 1948ءتک وہ حیدرآباد سٹیٹ آرمی میں رہے۔پاک وہند کی تقسیم کے بعد انہوں نے برٹش انڈین آرمی سے نوکری چھوڑ کر پاکستانی فوج میں شامل ہو گئے ۔

وہ 1970ءکی دہائی کے آغاز میں میجر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔انہوں ریٹائرمنٹ کے بعد غریب لوگوں کی فلاح اور خدمت کیلئے میدان سنبھال لیا اور انہوں نے چندہ جمع کرنے کی مہم پاکستان سمیت عالمی سطح پر شروع کر دی ۔ اس سلسلے میں انہوں نے یونیسیف ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیش ، سپورٹس ایڈ اور اسلامک مشن ہاسپٹلز سمیت کئی بین الاقوامی اور متحدہ عرب امارات میں ہونے والی میراتھن واکس میں حصہ لیا ۔ وہ اس نیک مقصد کیلئے کینیڈا 1989میں گئے وہاں اپنے فلاحی کام کو جاری رکھابالآخر ان کی یہ جدوجہد ’’فلاحی تنظیم مسلم ویلفیئر ٹرسٹ ‘‘ صورت میں دنیا کے سامنے آئی ۔ انہوں نے یہ تنظیم اپنی اہلیہ سرور جہاں بیگم کیساتھ مل کر 1993میں میں قائم کی ۔ محمد عباس کینیڈا میں انسانی فلاح کے کئی منصوبے شروع کیے جن میں’ ’ایک بچے کی مدد کرو‘‘قوم کو محفوظ کرو‘ جیسے منصوبے کئی دیگر منصوبے شامل ہیں ۔ ان کی سب سے طویل میراتھن 2500کلومیٹر کی تھی، جو عرب امارات سے شروع ہوئی اور مکہ مکرمہ جا کر ختم ہوئی ۔جس میں انہوں نے کراچی کے ایک ہسپتال کیلئے چندہ جمع کیا تھا ۔اس نیک سفر کے سلسلے میں کینیڈا سمیت دنیا کی کئی حکومتوں نے انہیں مختلف اعزازت سے نوازا ہے ۔ محمد عباس کا انتقال 17اپریل 2009ءمیں کراچی میں ہوا۔ انسانیت کے لیے ان کی بے مثال خدمات کے صلے میں ٹورنٹو کے علاقے سکاربورو میں واقع ایک پارک کا نام ان کے نام پر’ ’میجر عباس علی پارک‘‘ رکھ دیا گیا ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…