منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

کیا کوئی پتھر تقدیر بدل سکتا ہے؟حضرت محمدﷺ نے اپنی انگلی میں عقیق کیوں پہنا تھا؟ٹی وی شو میں معروف عالم دین نے پتھروں کو کس نیت سے پہننا جائز قرار دے دیا؟

datetime 22  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے پہلے مذہبی چینل کیو ٹی وی میں ناظرین کو شرعی مسائل سے آگاہی کیلئے اور ان کے شرعی مسائل کے جوابات کیلئے معلومات پروگرام میں ایک سائل نے پروگرا م کے میزبان اور عالم دین مفتی صاحب سے سوال پوچھا کہ انگلیوں میں پہننے والے پتھر اور نگینوں کی افادیت کے حوالے سے اسلام ہماری کیا رہنما ئی کرتا ہے؟ کیا یہ پتھر تقدیر بدلنے اور نفع دینے کی طاقت رکھتے ہیں؟

جس کا جواب دیتے ہوئے مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدھے ہاتھ کی انگلی میں عقیق پہنا ہے اور زیادہ تر یمنی عقیق استعمال کیا ہے تاہم یہ صرف زیبائش کے لیے تھا اس لیے عقیق کو محض پیروی رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں پہننا چاہیے نا کہ کسی نفع کے حصول کی نیت سے پہنا جائے۔مفتی صاحب نے کہا کہ عقیق ہو یا کوئی اور پتھر ہو وہ محض پتھر ہی ہیں جو نہ تو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کا نقصان پہنچانے طاقت یا صلاحیت رکھتے ہیں اس لیے پتھروں اور نگینوں کی نفع پہنچانے کی باتیں جیسے فلاں پتھر رزق میں فراوانی کا باعث ہوتا ہے اور فلاں سے تقدیر بدل جاتی ہے یا فلاں پتھر زیادہ فائدہ مند ہے بے بنیاد ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مفتی صاحب نے مزید کہا کہ اللہ اپنے آخری کلام میں انسانوں کو یہی پیغام دیتا ہے کہ سب کا کارساز اور کاتب تقدیر وہی ایک ذات ہے جو انسان کی شہ رگ سے بھی قریب ہے وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور زمین سے غلہ اگاتا ہے اور جسے چاہتا ہے رزق کشادہ کر کے دیتا ہے اور جسے چاہے اولاد سے نوازے اور جسے چاہے محروم رکھے۔مفتی صاحب نے بتایا کہ اللہ اپنے کلام میں واضح فرماتے ہیں کہ ’’ انسان کو اتنا ہی ملتا ہے جتنی اس نے کوشش کی ہو تی ہے‘‘ یعنی اللہ چاہتے ہیں کہ انسان کامیابی کے لیے اپنے علم، ہنر اور ذور بازو پر بھروسہ کرے

ناکہ بے جان پتھروں پر تکیہ کیے بیٹھا رہے اور جدوجہد سے عاری زندگی گذار دے۔مفتی صاحب کا کہنا تھا کہ انگلی میں پہنی گئے کسی بھی پتھر کی تاثیر گرم و سرد ہوسکتی ہے جو اگر جسم کی کھال سے مس ہو تو دورانِ خون میں یہ اثرات گردش کر سکتے ہیں جس کے جسم پر اثرات بھی مرتب ہو سکت ہیں تاہم یہ بھی اس صورت میں ہوسکتا ہے جب پتھر اصلی ہو اور جلد سے مَس بھی ہو رہا ہو۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…