پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

مسلم لیگ (ن) خود ہی تصادم کر کے سینیٹ ،عام انتخابات کا التوا ء چاہ رہی تھی،اصل مقصد کیاتھا؟ پیپلزپارٹی کے اہم رہنما نے سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 21  فروری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد سینیٹ اور عام انتخابات کے التوا ء کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) خود ہی تصادم کر کے سینیٹ اور عام انتخابات کا التوا ء چاہ رہی تھی۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان مولا بخش چانڈیو نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگ اب عدالتی فیصلے کی آڑ میں انتخابات کے التوا ء کی خواہش پوری کرنے کی کوشش کرے گی۔

مسلم لیگ (ن)نے اکثریت کے بل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو روندا تھا، یہ نتیجہ تو نکلنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ کے فیصلے کے بعد (ن)لیگ حواس باختہ ہوکر اداروں سے تصادم کی راہ پر چل پڑی ہے۔(ن) لیگ جس طریقے سے عدلیہ اور دوسرے ادارے کیلئے اشتعال بڑھا رہی تھی سب کو محسوس ہو گیا تھا۔ (ن) لیگ نے کرپشن کے مقدمات میں عدالتی محاذ پر شکست کھانے پر بعد تصادم کی سیاست کا آغاز کیا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو معاملے کے سنجیدگی اور حساسیت کا احساس ہی نہیں۔تحریک انصاف اس فیصلے کے دو رس اثرات سے ناواقف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کی جماعت جی ٹی روڈ تک محدود ہے، تصادم وفاق کیلئے خطرناک ہے ۔میاں صاحب مخصوص علاقے کے لوگوں کو مخصوص نعرا دے کر اداروں کے خلاف ورغلا رہے ہیں، اس محاذ آرائی کا مسلم لیگ (ن)کو فائدہ ہو نہ ہو وفاق کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جس جماعت کا تین صوبوں میں وجود ہی نہ ہو وہ پورے ملک کی بات کیسے کر سکتی ہے۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف پارٹی صدارت کیلئے بھی نا اہل ہوگئے ہیں، سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے نااہل قرار دیتے ہوئے ان کی جانب سے ماضی میں کیے گئے تمام فیصلوں کو بھی کالعدم قرار دے دیا ہے۔ فیصلے میں نواز شریف کی جانب سے جاری کیے گئے تمام سینٹ ٹکٹ بھی منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…