پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف کو گارڈ فادر کہنے والے جسٹس آصف سعید کھوسہ ایک بار پھر میدان میں آگئے، اس بار کیا کہہ دیا

datetime 21  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) میں نے کسی کو گاڈ فادر نہیں کہا، گاڈ فادر کا کردار تو ہیرو کا تھا جسے ولن بنا دیا گیا ،گاڈ فادر امیروں کو لوٹ کر غریبوں کی مدد کرتا تھا،پانامہ فیصلے میں گارڈ فادر کا لفظ استعمال کرنے والے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پانامہ فیصلے میں گارڈ فادر لکھنے کی وضاحت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ سپریم کورٹ کی جانب سے سیسلین مافیا

اور گارڈفادر کے الفاظ کے استعمال کے بعد حکمران جماعت ن لیگ کی قیادت اور رہنمائوں کی جانب سے سپریم کورٹ پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے ۔ اسی دوران اب پانامہ فیصلے میں گارڈ فادر کا لفظ استعمال کرنے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مقدمے کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے کسی کو گاڈ فادر نہیں کہا، گاڈ فادر کا کردار تو ہیرو کا تھا جسے ویلن بنا دیا گیا ،گاڈ فادر امیروں کو لوٹ کر غریبوں کی مدد کرتا تھا۔ توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وفاقی نمائندے سے پوچھا کہ کیا آپ نے پاناما کیس کا فیصلہ پڑھا ہے جس پر انہوں نے کہا جی ہاں !فیصلہ پڑھا ہے ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وفاقی نمائندے کی حیثیت سے بتائیں کہ کیا فیصلے میں کسی کو گاڈ فادر کہا گیا جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں تصدیق کرتا ہو کہ فیصلے میں کسی کو گاڈ فادر نہیں کہا گیا ۔اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ میں نے کسی کو گاڈ فادر نہیں کہا ۔ان کا کہنا تھا کہ گاڈ فادر کا کردار تو ہیرو کا تھا جسے ویلن بنا دیا گیا ،گاڈ فادر امیروں کو لوٹ کر غریبوں کی مدد کرتا تھا ۔اس بات پر کمرہ عدالت قہقوں سے گونج اٹھی ۔واضح رہے کہ پانامہ فیصلے میں گارڈ فادر ناول کا ذکر کرتے ہوئے اس ناول کا ایک جملہ لکھا گیا تھا کہ ’’ہر خزانے کے پیچھے کوئی بڑا جرم ہوتا ہے‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…